پاکستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں شدید بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ حیران کن طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض ایسے علاقوں میں بھی ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی ہے جہاں عام طور پر موسمِ سرما میں برف نہیں پڑتی یا یہ عمل طویل عرصے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک کے نیم قبائلی علاقے جنڈولہ اور ضلع کرم کے علاقے صدہ میں غیر متوقع برفباری نے مقامی آبادی کو حیران کر دیا جبکہ بلوچستان کے اضلاع خاران اور نوشکی کے چند مقامات پر بھی برسوں بعد برفباری دیکھی گئی۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس غیر معمولی موسمی صورتحال کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک ملک میں سب سے زیادہ برفباری مالم جبہ میں ریکارڈ کی گئی ہے جہاں برف کی موٹائی 38 انچ تک جا پہنچی۔ وادی کالام میں 30 انچ، چترال میں 16 انچ اور پاڑا چنار میں 15 انچ برف پڑ چکی ہے۔ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں ساڑھے 11 انچ برفباری کے بعد سیاحوں کے لیے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
بلوچستان کے علاقوں قلات اور کوئٹہ میں بالترتیب 1.6 اور 1.5 انچ برف ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ شمالی بلوچستان میں برفانی طوفان کے باعث کوئٹہ زیارت شاہراہ پر درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ چمن کے گردونواح میں بھی 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہو گئے۔ این 50 شاہراہ پر شدید برف اور پھسلن کے باعث بین الصوبائی آمدورفت معطل رہی اور مختلف حادثات میں 27 افراد زخمی ہوئے۔
کوژک ٹاپ پر سائیبرین ہواؤں کے زیرِ اثر درجۂ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا جس سے سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ شیلاباغ کے قریب گاڑیوں کے آپس میں ٹکرا جانے کے واقعے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں بھی موسمِ سرما کی پہلی برفباری کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔ وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑ چکی ہے جہاں سیاح بڑی تعداد میں برفباری سے لطف اندوز ہونے پہنچ رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برف پڑنے کے باعث زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں جبکہ ہنزہ، نگر اور چیپورسن میں بھی برفباری سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ چلاس، بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، داریل اور تانگیر میں سردی کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے جبکہ مری میں برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے جزوی طور پر بند کر دی گئی۔ انتظامیہ نے بہارہ کہو اور سترہ میل کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے سیاحوں کو آگے جانے سے روک دیا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں وادی تیراہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ترجمان کے مطابق علاقہ سندانہ میں پھنسنے والی 20 گاڑیوں میں سوار 55 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ خیبر، پشاور، صوابی اور نوشہرہ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ باڑہ بٹہ تل میں بارش کے باعث ایک مکان کا کمرہ گرنے سے ملبے تلے دبنے والے 5 افراد کو بھی بحفاظت نکال کر طبی امداد فراہم کی گئی۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سوات نے شدید برفباری کے پیش نظر سیاحوں کو مالم جبہ، کالام اور دیگر بالائی علاقوں کا سفر انتہائی احتیاط کے ساتھ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مالم جبہ کی جانب سپینے اوبو سے آگے جانے کے لیے گاڑیوں میں چین کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق برف ہٹانے کا کام جاری ہے اور مکمل روڈ کلیئرنس تک سیاحوں کو اپنی موجودہ جگہوں پر قیام کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے اضلاع کرک، مالاکنڈ اور صوابی میں بھی کئی دہائیوں بعد برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ صوابی میں تین سال بعد 6 انچ برف پڑی جبکہ مالاکنڈ کے پہاڑی علاقوں میں 20 سال بعد یہ منظر دیکھنے میں آیا۔ شدید سردی کے باعث جھیلوں کے ساتھ گھروں کی پانی کی ٹینکیاں اور نلکے بھی جم گئے ہیں۔
پاکستان میں لا نینا کی واپسی! جانیں کون ہے یہ لانینا اور اس کے اثرات کیا ہونگے
پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری میں مزید شدید برفباری کا الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ اسلام آباد پولیس نے شہریوں اور سیاحوں کو مری کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین یاد دلا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ رواں برس پاکستان کو دہائیوں کے سخت ترین سرد موسم کا سامنا ہو سکتا ہے جس کی بڑی وجہ لانینا موسمیاتی پیٹرن کو قرار دیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








