کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے بعد سیاسی ماحول شدید کشیدگی کا شکار ہو گیا ہے۔ صوبائی سطح پر پیپلزپارٹی کے رہنما اور دیگر سیاستدان ملک کے تقسیم ہونے اور خانہ جنگی کے امکانات کے بارے میں دھمکیاں دینے لگے تاہم ریاست اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عوامی سطح پر اس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جو اس صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام “ٹونائٹ ود ثمر عباس” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کا خیال محض ایک تصور ہے اور حقیقت میں اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، مگر کراچی وفاق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
شہلا رضا نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے کسی بھی بحث پر پیپلزپارٹی اپنا موقف واضح کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا پر مشترکہ مہم چلا رہی ہیں، جو سیاسی تناؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی شہلا رضا نے کہا تھا کہ اگر اٹھارویں ترمیم کے خلاف کچھ کیا گیا تو یاد رکھیں کہ سندھ ایک الگ ملک تھا۔ ان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے اور ملک کے ٹوٹنے کے امکانات پر اپنی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا پر جاری مہم ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عوامی عدم اطمینان کا سبب بن سکتی ہیں۔ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کا کردار اور فوری اقدامات نہ صرف سیاسی بحران کو کنٹرول کرنے کے لیے بلکہ امن و امان قائم رکھنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








