برطانیہ میں انسدادِ دہشت گردی پولیس نے سابق پاکستانی مشیر مرزا شہزاد اکبر پر ہونے والے متعدد منظم حملوں کے سلسلے میں تین افراد پر باقاعدہ طور پر الزامات عائد کر دیے ہیں۔ یہ حملے دسمبر کے اختتام پر کیمل برج شائر اور بکنہم شائر میں پیش آئے تھے جنہیں پولیس نے انتہائی مخصوص اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے حملے قرار دیا ہے۔ ان واقعات کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی یونٹ کر رہا ہے۔
پولیس کے مطابق کارل بلیک برڈ (40 سال)، کلارک میک آلی (39 سال) اور ڈونیٹو برامر (21 سال) ان حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان واقعات کے دوران دو افراد کو نشانہ بنایا گیا جن میں سابق مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر بھی شامل ہیں جبکہ دیگر سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
مرزا شہزاد اکبر جو سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں احتساب کے مشیر کے فرائض انجام دے چکے ہیں نے بتایا کہ ان پر ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حملہ آور نے پہلے ان کی شناخت کی تصدیق کی اور اس کے بعد انہیں بار بار گھونسوں سے نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے عارضی طور پر روپوش ہونے کا فیصلہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارل بلیک برڈ اور کلارک میک آلی پر دانستہ طور پر تشدد کرنے، حملے کی سازش کرنے اور کسی کو نقصان پہنچانے کے ارادے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ ڈونیٹو برامر پر ممنوعہ ہتھیار رکھنے اور آتش زنی کی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
تینوں ملزمان کو ویسٹ منسٹر میجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں آئندہ سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور تمام ممکنہ محرکات کے ساتھ ساتھ شواہد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ کیس برطانوی انسدادِ دہشت گردی فورس کی نگرانی میں ہے کیونکہ حملوں کو خاص اہداف کے خلاف منظم کارروائیاں قرار دیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ پہلو بھی زیرِ غور ہے کہ آیا ان واقعات کے پسِ پردہ کوئی سیاسی یا دیگر محرکات کارفرما تھے یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








