سندھ کے ایک ہندو تاجر وشال کمار نے سنگین الزامات لگاتے ہوئے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی (ایم پی اے) راجا خان مہر نے انہیں مالی طور پر تباہ و برباد کردیا جبکہ انہیں اپبے بنگلے پر زبردستی بلا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص، جو اپنا نام وشال کمار بتا رہا ہے، نے پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی راجا خان مہر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
وشال کمار نے ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے اور ایم پی اے راجا خان مہر کے درمیان کاروباری تعلقات تھے تاہم جب انہوں نے مزید کاروبار جاری رکھنے سے انکار کیا تو انہیں زبردستی ایم پی اے کے بنگلے پر بلایا گیا۔ ان کے مطابق وہاں ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور شدید تذلیل کی گئی۔ متاثرہ تاجر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اغوا سے مشابہ تھا اور اس دوران قانون کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔
وشال کمار نے الزام لگایا کہ تشدد اور دباؤ کے باعث ان کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور وہ شدید ذہنی و مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جسے صحافی شاہد حسین سمیت متعدد صارفین نے شیئر کیا ہے۔
سندھ حکومت کے ایم پی اے کی جانب سے ہندو تاجر کا مبینہ اغوا اور تشدد کرنے کا واقعہ
ایم پی اے راجا خان مہر نے مالی طور پر مجھے نچوڑ کر رکھ دیا ہے، بلا کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہندو تاجر وشال کمار pic.twitter.com/CIURKMct0H— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) January 24, 2026
واقعے کے بعد اقلیتوں کے حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ تاجر اور اس کے اہل خانہ کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، ایم پی اے کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
سندھ حکومت، پیپلز پارٹی، ایم پی اے راجا خان مہر یا سندھ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تاہم سوشل میڈیا پر یہ معاملہ شدید بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔
یہ واقعہ سندھ میں اقلیتوں کے تحفظ، سیاسی اثر و رسوخ کے ممکنہ غلط استعمال اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








