گلگت بلتستان کی قدرتی حسن سے مالامال چپرسن وادی میں زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا جہاں کے عوام سخت سردی میں خیموں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق وادی چپرسن میں عوام کی زندگی اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور گزشتہ چند ماہ سے اس علاقے اور اس کے گردونواح میں زیر زمین جھٹکوں، دھماکے جیسی آوازوں اور آفٹر شاکس نے عوام کی زندگیاں اجیرن کردی ہیں، جس نے مقامی آبادی کو ذہنی دباؤ کا شکار کردیا۔
گزشتہ برس 13 اکتوبر کو ایک شدید زمینی جھٹکے نے بڑی تعداد میں مکانات کو جزوی طورپر تباہ کردیا، گھروں کی دیواروں میں پڑنے والی دراڑوں نے عوام کو خوفزدہ ہو کر گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا، اور آج 80فیصد خاندان خیمہ بستی میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں جہاں سخت سردی نے جینا محال کردیا۔
سردی کے باعث عوام کی بڑی تعداد جن میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، محدود سہولیات اور غیر محفوظ رہائش کا شکار ہیں جبکہ اس بحران کی وجہ اس کی جغرافیائی صورتحال ہے کیونکہ وادی 4 بڑے ایکٹو فالٹ زونز پر واقع ہے، جن سے زلزلے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
فطری صورتحال کے ساتھ ساتھ علاقے میں مائننگ اور تعمیراتی کام بھی جاری ہیں جو ڈائنامائٹ اور بلاسٹنگ کے استعمال کے بغیر مکمل نہیں ہوتے، اس سے جھٹکوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور زلزلے جیسی صورتحال سے پھیلنے والے خوف و ہراس میں عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
اس کے علاوہ شدید سردی کے باعث عوام کو بیماریوں اور صحت کے مسائل کا بھی خدشہ ہے، جس سے چپرسن وادی کی صورتحال انسانی المیے کی جانب جاتی دکھائی دیتی ہے، جس کا حل فوری امداد نہیں بلکہ اس کیلئے ایک جامع سائنسی و طویل مدتی حکمتِ عملی ضروری ہے۔
ضروری ہے کہ متأثرہ علاقوں کا تفصیلی زمینی سروے کیا جائے، مستقل اور نیم مستل محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کی جائیں، سردیوں سے بچاؤ کے انتظامات اور طبی سہولیات دی جائیں اور اگر ضرورت پڑے تو عوام کو متبادل رہائش گاہوں میں آباد بھی کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








