اگر چین کی جدید ریاستی تشکیل اور بیسویں صدی میں اس کے سیاسی و نظریاتی ارتقا کو سمجھنا مقصود ہو تو 1912ء سے 1949ء تک کے ارتقائی جمہوری دور کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ طویل اور پُرآشوب مرحلہ تھا جس میں چین نے صدیوں پر محیط شاہی نظام کے خاتمے کے بعد قومی ریاست، جمہوریت، عسکری سیاست، نظریاتی تصادم اور غیر ملکی جارحیت کے باعث اپنی درست شناخت کے حصول کیلئے جدوجہد کی، اور یہی وہ تاریخی تجربہ تھا جس نے آگے چل کر جدید چینی ریاست کی نظریاتی و ادارہ جاتی بنیادیں استوار کیں۔
چنگ سلطنت کے خاتمے کے فوراً بعد یکم جنوری 1912ء کو سن یات سین (Sun Yat-sen) نانجنگ میں جمہوریہ چین کے عبوری صدر بنے، جس سے دو ہزار سالہ شاہی روایت کا خاتمہ اور ایشیا کی پہلی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا، جس کی نظریاتی بنیاد تین عوامی اصولوں بشمول چینی قوم پرستی، جمہوریت اور عوامی فلاح پر رکھی گئی تھی۔ سن یات سین ایک معروف سیاسی مفکر اور انقلابی رہنما تھے جنہیں چین کے جدید باب کا بانی سمجھا جاتا ہے۔
تاہم طاقت کے عملی توازن نے جلد ہی سیاسی جدوجہد کا رخ موڑ دیا، کیونکہ شمالی فوجی رہنما یوان شیکائی (Yuan Shikai) نے چنگ خاندان پر فوجی اور سیاسی دباؤ ڈالا اور انہیں اقتدار سے دستبرداری پر مجبور کیا۔ اس کے بدلے، شیکائی نے وعدہ کیا کہ وہ قومی اتحاد قائم رکھے گا اور انقلاب کے رہنماؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ اسی دباؤ کی وجہ سے سن یات سین کو اپریل 1912ء میں استعفیٰ دینا پڑا تاکہ ملک میں خانہ جنگی نہ ہو اور ریاست کا انتظام مضبوط ہاتھ میں آ جائے۔ نتیجتاً دارالحکومت بیجنگ منتقل ہوا اور ریاست ایک طاقتور فوجی شخصیت کے زیرِ اثر آ گئی۔ یوان شیکائی ایک طاقتور جنرل اور سیاسی کھلاڑی تھے جنہوں نے جمہوری اصولوں کی جگہ آمرانہ قوت کو فوقیت دی۔
اس کے بعد 1913ء میں سونگ جیارن کے قتل اور پارلیمانی اکثریت رکھنے والی کومن تانگ پارٹی کے خلاف کارروائیوں نے جمہوری نظام کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا، چنانچہ دوسری انقلابی تحریک ناکام ہوئی، سن یات سین جلاوطن ہوئے، پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی اور یوان شیکائی نے آمرانہ اختیارات حاصل کر لیے، حتیٰ کہ 1915ء میں خود کو شہنشاہ قرار دے دیا، جس کے خلاف قومی تحفظ کی جنگ چھڑ گئی اور بالآخر 1916ء میں ان کی موت کے ساتھ چین مکمل سیاسی انتشار کا شکار ہو گیا۔
اس کے بعد 1916ء سے 1928ء تک جنگجو سرداروں کا دور شروع ہوا، جہاں مختلف فوجی دھڑے مرکزی حکومت، شمالی سیاست اور منچوریا پر قابض رہے اور مسلسل باہمی جنگوں نے ریاستی وحدت کو مفلوج کیے رکھا۔ اگرچہ پہلی عالمی جنگ میں چین نے برطانیہ، فرانس، روس اور دیگر اتحادی طاقتوں کے ساتھ تعاون کیا، اور جرمنی اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کھڑا ہوا، لیکن داخلی انتشار اور طاقت کے خونی تنازعات برقرار رہے۔ چین نے اتحادیوں کے لیے اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر جرمن قبضے والے شیندونگ صوبے میں مقامی سپلائی اور مزدور فراہم کیے، جس کے نتیجے میں اتحادی ممالک نے چین کو بیرونی قرضے، جدید اسلحہ اور صنعتی امداد دینے کا وعدہ کیا۔ اس کارنامے سے چین کو عالمی جنگ میں شرکت کے بہانے کچھ مالی اور فوجی فوائد حاصل ہوئے، اور کچھ صوبوں میں جدید فوجی تربیت اور صنعتی تجربات کا آغاز بھی ہوا، تاہم ملک کے زیادہ تر حصے میں سیاسی عدم استحکام برقرار رہا۔
اسی دوران سن یات سین نے جنوبی چین میں متوازی حکومت قائم کی اور سویت یونین کے تعاون سے کومن تانگ کی تنظیمِ نو کی، جس کے نتیجے میں 1924ء میں کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ پہلا متحدہ محاذ قائم ہوا اور ویمپو ملٹری اکیڈمی (Whampoa Military Academy)کے قیام سے ایک جدید قومی انقلابی فوج کی بنیاد پڑی، جس میں چیانگ کائی شیک نے کلیدی عسکری کردار حاصل کیا۔ چیانگ کائی شیک ایک مشہور جنرل اور سیاسی رہنما تھے جنہوں نے بعد میں نانجنگ حکومت کی قیادت کی۔
سن یات سین جو صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد جلا وطن ہوگئے تھے، لیکن سیاسی و انقلابی رہنما کے طور پر اثر قائم رکھ رہے تھے، وہ جنوبی چین میں متوازی حکومت اور سیاسی تحریکیں چلاتے رہے، شمالی فوج کے دباؤ کے باوجود قومی یکجہتی کے لیے اقدامات بھی اٹھاتے رہے۔ سن یات سین کی 1925ء میں وفات کے بعد چیانگ کائی شیک نے طاقت کو مستحکم کیا اور 1926ء میں شمالی مہم کا آغاز کیا، جس کے ذریعے زمین کے ایک بڑے حصے کو فتح کر کے 1928ء میں نانجنگ حکومت قائم کی گئی، تاہم 1927ء میں شنگھائی قتلِ عام اور کمیونسٹ مخالف کریک ڈاؤن نے اتحاد کو ختم کر کے خانہ جنگی کو جنم دیا۔
نانجنگ کے عشرے میں جدیدیت کی کوششیں کی گئیں، مثلاً محصولات کی خودمختاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کرنسی اصلاحات، قانونی ضابطہ سازی اور تعلیم کا فروغ، مگر بدعنوانی، زرعی اصلاحات کی ناکامی اور کمیونسٹ مخالف عسکری مہمات نے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں کمیونسٹ تحریک نے دیہی علاقوں میں عوامی حمایت مستحکم کی اور لانگ مارچ کے ذریعے اپنی قیادت کو منظم کیا۔
مکڈن واقعہ یا مناچوریا ریلوے بم دھماکہ 18 ستمبر 1931ء کو پیش آیا، جب جاپانی فوج نے جنوبی منچوریا میں جنرل مانچوریا ریلوے پر بم دھماکہ کر کے خود ساختہ حملہ کیا، جس کا الزام چینی افواج پر لگایا گیا۔ اس واقعے کو بہانہ بنا کر جاپان نے منچوریا پر مکمل قبضہ کر لیا اور وہاں ایک آرٹفیشل ریاست، منچوکُو، قائم کی۔ سال 1931ء کے مکڈن واقعے سے جاپانی جارحیت کا آغاز ہوا اور 1937ء میں مکمل چین-جاپان جنگ چھڑ گئی، جس میں شنگھائی اور نانجنگ جیسے شہروں پر جاپان کے قبضے اور نانجنگ قتلِ عام نے ایک ایسا خونی باب رقم کیا جسے انسانی تاریخ کے بدترین مظالم میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جبکہ قومی حکومت نے دارالحکومت چونگ چنگ منتقل کیا اور دوسری متحدہ محاذ کے تحت مزاحمت جاری رکھی، مگر جنگ نے معیشت، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا۔
یہی نہیں، بلکہ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوئی، جہاں امریکی مدد یافتہ قوم پرست افواج ابتدائی برتری کے باوجود بدعنوانی، کمزور نظم و نسق اور عوامی حمایت کے فقدان کے باعث کمیونسٹ افواج کے سامنے شکست کھاتی گئیں، حتیٰ کہ 1949ء میں نانجنگ اور شنگھائی پر قبضے کے بعد چیانگ کائی شیک تائیوان منتقل ہو گئے اور یکم اکتوبر 1949ء کو ماؤ زے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا، جس سے سرزمینِ چین پر جمہوری دور کا اختتام اور کمیونسٹ دور کا آغاز ہوا۔ ماؤ زے تنگ کمیونسٹ پارٹی کے نظریاتی رہنما اور چین کے طویل مدتی حکمتِ عملی کے معمار تھے۔
یہ پورا جمہوری دور محض سیاسی تبدیلیوں کی تاریخ نہیں بلکہ نظریاتی کشمکش، عسکری سیاست، غیر ملکی جارحیت اور عوامی انقلاب کے باہمی تعامل کی ایک جامع مثال ہے، جس نے چین کو یہ سبق دیا کہ ریاستی وحدت، عوامی حمایت، نظریاتی نظم و نسق اور ادارہ جاتی استحکام کے بغیر جدید قومی ریاست کا قیام ممکن نہیں۔ یہی تاریخی تجربہ بعد ازاں چین کی کمیونسٹ ریاستی تعمیر، مرکزی نظم و ضبط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی فکری بنیاد بنا، جس نے چین کو داخلی انتشار سے عالمی طاقت بننے کے سفر پر گامزن کیا۔
اگر پاکستانی اکابرین بھی چین کی تقلید کرتے ہوئے اپنی معیشت، معاشرت اور ریاستی ڈھانچے کو مزید تنزلی سے بچا سکیں اور ساتھ ہی عوامی حمایت ، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ، انتظام و انصرام کے ڈھانچے کی مضبوطی اور ادارہ جاتی استحکام پر توجہ دیں تو پاکستان کی ریاست کی بنیادیں ایک بار پھر مضبوط ہونا شروع ہوسکتی ہیں اور اہل ملت کو من حیث القوم ان اصولوں کے حصول میں معاونت حاصل ہوسکے گی تاکہ ان سیاست دانوں کا محاسبہ بھی ہوسکے جو اس ملک کو جونک کی طرح چوستے رہے ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








