پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات 29 جنوری 2026 کو شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران 6,000 سے زائد پوائنٹس گر کر شدید دباؤ کا شکار رہا۔
مارکیٹ کا آغاز مثبت ہوا اور انڈیکس نے انٹرا ڈے ہائی 188,923 پوائنٹس تک پہنچ کر 543 پوائنٹس کا اضافہ دکھایا لیکن جلد ہی فروخت کا شدید دباؤ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے انڈیکس تیزی سے نیچے آیا اور کم ترین سطح 181,961.14 پوائنٹس تک گر گیا۔ یہ پچھلے دن کے اختتامی سطح 188,380 پوائنٹس سے تقریباً 6,419 پوائنٹس (3.41 فیصد) کا گراوٹ تھا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی کمی کے ساتھ 182,338 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مختلف شعبوں جیسے آٹوموبائل، سیمنٹ، بینکنگ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، پاور جنریشن اور ریفائنریز میں وسیع پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ اہم شیئرز جیسے اے آر ایل، حبکو، پی او ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی اوریو بی ایل بھی منفی زون میں بند ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات علاقائی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں شرح سود میں کمی کے عمل میں ممکنہ تاخیر کے خدشات ہیں۔ اسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بتایا کہ یہ عوامل مارکیٹ میں غیر یقینی کو بڑھا رہے ہیں جس سے شرح سود کم کرنے کا سلسلہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی مسائل کے علاوہ فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کے حالیہ مالیاتی نتائج بھی توقعات سے کم رہے جس نے فروخت کے رجحان کو مزید تقویت دی۔
عالمی سطح پر بھی مارکیٹس میں احتیاط کا ماحول تھا جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے نتائج اور ڈالر کی غیر مستحکم پوزیشن نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔ سونے اور چاندی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچیں جبکہ تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گئیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود برقرار رکھی لیکن ٹرمپ کی دباؤ کی کوششوں کے باوجود مستقبل کی شرح سود میں کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف تجارتی تنظیموں نے بھارت-یورپی یونین کے مجوزہ فری ٹریڈ معاہدے (ایف ٹی اے) پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو پاکستان کے ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کو نقصان پہنچا سکتا ہے حالانکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








