یورپی یونین کا جرأت مندانہ فیصلہ یا بڑی غلطی؟ ایران کا سخت ردعمل! جانیں معاملہ ہے کیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

یورپی یونین نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس حوالے سے اتفاقِ رائے پایا گیا جس کے بعد یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔

یورپی یونین کے اس اقدام پر ایران کی مسلح افواج اور اعلیٰ حکام نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی فوج نے اپنے بیان میں یورپی فیصلے کو غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید کے مترادف ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یورپی یونین کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی ہے جس کے خطے اور عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم ستون ہے، جسے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ فورس باقاعدہ فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کے دفاع، بیرونی عسکری سرگرمیوں اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار فعال اہلکاروں پر مشتمل یہ فورس، ریزرو سمیت چھ لاکھ سے زائد افراد پر محیط بتائی جاتی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگراموں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں مختلف اتحادی گروہوں کی حمایت بھی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکا پہلے ہی 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

یورپی یونین کے حالیہ فیصلے کے بعد ایران اور یورپ کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

Related Posts