پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز کے لیے فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی 10 مارچ 2026 کو منعقد کی جائے گی جس کے لیے تمام ضروری انتظامات اور شیڈول کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو تیاری کے لیے مناسب وقت فراہم کیا گیا ہے تاکہ نیلامی کے عمل میں مؤثر شرکت ممکن ہو سکے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر ہوگی اور اس سلسلے میں تمام فیصلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی پالیسی ہدایات کی روشنی میں انفارمیشن میمورنڈم بھی جاری کر دیا گیا ہے جس میں نیلامی سے متعلق شرائط و ضوابط کی تفصیلات شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق نیلامی کے بعد ہر ٹیلی کام کمپنی سالانہ کم از کم ایک ہزار نئی سائٹس نصب کرنے کی پابند ہوگی۔ فائیو جی سروس کے پہلے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں آغاز کیا جائے گا جبکہ ان شہروں میں موجود ٹاورز کے کم از کم 10 فیصد کو فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انفارمیشن میمورنڈم میں فور جی سروس کے معیار کو بھی بہتر بنانے کی ہدایات شامل ہیں جس کے تحت کم از کم انٹرنیٹ اسپیڈ کو 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 20 ایم بی پی ایس مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیاں پہلے سال میں رفتار کو کم از کم 10 ایم بی پی ایس تک لے جانے کی پابند ہوں گی۔
فائیو جی سروس کے لیے کم از کم رفتار 50 ایم بی پی ایس مقرر کی گئی ہے جبکہ بڑے شہروں میں اس سروس کو تیزی سے وسعت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹیلی کام کمپنیاں 20 دن کے اندر انفارمیشن میمورنڈم پر اپنی تجاویز جمع کروا سکتی ہیں جس کے بعد 26 مارچ کے بعد حتمی دستاویز جاری کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی کے لیے مجموعی طور پر 6 مختلف بینڈز میں 597.2 میگا ہرٹس اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ان میں 700 میگا ہرٹس بینڈ میں 30 میگا ہرٹس، 1800 میگا ہرٹس بینڈ میں 7.2 میگا ہرٹس، 2100 میگا ہرٹس بینڈ میں 40 میگا ہرٹس، 2300 میگا ہرٹس بینڈ میں 50 میگا ہرٹس، 2600 میگا ہرٹس بینڈ میں 190 میگا ہرٹس اور 3500 میگا ہرٹس بینڈ میں 280 میگا ہرٹس اسپیکٹرم شامل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








