سردیوں میں جوڑوں اور گھٹنوں کے درد سے نجات کے 10 اہم طریقے

تازہ ترین

تازہ ترین

گھٹنوں اور جوڑوں
(فوٹو: آن لائن)

سردیوں کے موسم میں جوڑوں اور گھٹنوں کا درد ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے، خاص طور پر بزرگ افراد اور اوسٹیو ارتھرائٹس کے مریض اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سرد موسم میں جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے خون کی گردش کو اندرونی اعضاء تک محدود کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جوڑوں اور پٹھوں تک خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس کمی کی وجہ سے جوڑوں میں اکڑن، سختی اور درد بڑھ جاتا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند احتیاطی اور گھریلو تدابیر اختیار کر کے خاصی حد تک آرام حاصل کیا جا سکتا ہے، ایسی ہی 10 اہم طریقے مندرجہ ذیل ہیں:

سردیوں میں جوڑوں کے درد کے لیے گرم کمپریس نہایت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے پہلا طریقہ یہ ہے کہ گرم پانی کی بوتل یا ہیٹنگ پیڈ کو دن میں ایک یا دو بار 10 سے 15 منٹ تک درد والی جگہ پر رکھنے سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور پٹھوں کو سکون ملتا ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ لہسن کو سرسوں یا تل کے تیل میں ہلکا سا گرم کر کے ٹھنڈا ہونے کے بعد جوڑوں پر مالش کی جائے۔ اس سے سوزش اور درد میں کمی آتی ہے۔ زیتون کے تیل سے مالش بھی پٹھوں کی سختی کم کرنے اور حرکت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ہلدی ملا کر پئیں، جو جوڑوں کے درد کے لیے فائدہ مند ہے۔ ہلدی میں موجود کرکیومین قدرتی طور پر سوزش اور درد کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چوتھا طریقہ یہ ہے کہ سردیوں میں ادرک کی چائے یا کاڑھا پینا جوڑوں کے درد میں آرام پہنچا سکتا ہے، ادرک جسم کو اندر سے گرم رکھتی ہے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

پانچواں طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیج رات بھر پانی میں بھگو کر صبح خالی پیٹ کھا لیے جائیں۔ اس سے جوڑوں کے درد میں کمی آ سکتی ہے، کیونکہ میتھی کا اثر گرم ہوتا ہے اور یہ سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

چھٹا طریقہ یہ ہے کہ سرد موسم میں جوڑوں کو ڈھانپ کر رکھا جائے، جو بہت ضروری ہے۔ گھٹنوں، ٹخنوں اور کہنیوں کو گرم کپڑوں سے ڈھانپنے سے سردی کے براہِ راست اثرات کم ہو جاتے ہیں۔

ساتواں طریقہ یہ ہے کہ ہلکی پھلکی واک، تھوڑی بہت ورزش اور اسٹریچنگ سے مدد لی جائے جو جوڑوں کی لچک برقرار رکھنے کیلئے معاون ہے، کیونکہ عملی طور پر سردیوں میں انسانی نقل و حرکت کم ہو جاتی ہے، لیکن مکمل بے حس و حرکت رہنا جوڑوں کی اکڑن میں اضافہ کرکے درد کو بڑھا سکتا ہے۔

آٹھواں طریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے کیونکہ سردیوں میں پیاس کم لگتی ہے، لیکن جسم کو پانی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینے سے جوڑوں کے درمیان موجود سیال کا توازن درست رہتا ہے اور زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں۔

نواں طریقہ یہ ہے کہ ایسی غذا کا استعمال کریں جو جسم کو توانائی دے اور سوزش کم کرے، جیسے سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور قدرتی غذائیں۔ یہ جوڑوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔

دسواں اور آخری طریقہ یہ ہے کہ سردیوں میں جسم کو معمول سے زیادہ آرام دیا جائے کیونکہ مناسب نیند پٹھوں اور جوڑوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور درد میں کمی لاتی ہے۔

Related Posts