جاوید ہاشمی پر پیکا ایکٹ کب لگے گا؟ سینئر سیاستدان کے سوشل میڈیا پر افواج پاکستان سے متعلق بے بنیاد دعوے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر جاوید ہاشمی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر افواجِ پاکستان سے متعلق کیے گئے بے بنیاد بیانات پر ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کے دعوؤں کو بے بنیاد اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔

جاوید ہاشمی نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل اب تک حماس کو غیر مسلح کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب یہ ذمہ داری مبینہ طور پر افواجِ پاکستان کے سپرد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی افواج کو غزہ جا کر فلسطینی عوام کو غیر مسلح کرنے اور انہیں اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے کچھ سپاہی غزہ میں حماس کی مبینہ طور پر بچھائی گئی سرنگیں صاف کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم ان دعوؤں کی کسی سرکاری یا معتبر ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اپنے بیان میں جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کا کردار تو قبلہ اول کے محافظ کے طور پر ہونا چاہیے تھا مگر ان کے بقول اب صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض علما نے اسی بنیاد پر فتویٰ دیا ہے تاہم اس حوالے سے بھی کوئی مستند حوالہ سامنے نہیں آیا۔

بیان کے آخر میں انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام سے مخاطب ہوتے ہوئے ایک سخت جملہ بھی تحریر کیا جس پر سوشل میڈیا پر مزید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

سوشل میڈیا صارفین، سیاسی مبصرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ افواجِ پاکستان سے متعلق اس نوعیت کے غیر مصدقہ بیانات قومی سلامتی اور اداروں کے وقار کے لیے نقصان دہ ہیں اور ذمہ دار شخصیات کو اظہارِ خیال میں احتیاط برتنی چاہیے۔

جاوید ہاشمی کے بیان پر کسی حکومت، سرکاری ادارے یا افواجِ پاکستان کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Related Posts