عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران ارو امریکا کے نمائندے آج مذاکرات کریں گے جس پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران سے جوہری پروگرام کو منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی خواہش ہے کہ ایران نہ صرف جوہری پروگرام منجمد کرے بلکہ افزودہ یورنیم کے ذخائر بھی تلف کردے اور ایرانی بیلسٹک میزائل بھی محدود کردیا جائے، تاہم ایران بات چیت کو جوہری پروگرام تک محدود رکھنے کا خواہش مند ہے۔
بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم جوہری تنازعے کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائلز کی رینج، مشرق وسطیٰ میں گروپس کی حمایت اور عوام کے ساتھ سلوک کی بات چیت شامل ہونی چاہئے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مارکو روبیو کا مطلب یہ ہے کہ 12 روزہ جنگ اور حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ یہی نہیں، بلکہ امریکا ایران سے چین کو توانائی کی مصنوعات کی فراہمی بھی محدود کروانا اور ایران کو علاقائی اتحادیوں سے دور کرنا بھی چاہتا ہے۔
امریکا کے ان سخت مطالبات پر ایران نے تاحال یہ مؤقف اپنایا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود رہیں گے۔ بیلسٹک اور دفاع سے منسلک معاملات پر گفتگو نہیں ہوسکتی۔ وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
آج ہونے والے مذاکرات سے یہ اشارہ ملے گا کہ امریکا اور ایران کے مابین ممکنہ جنگ روکنے کیلئے کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ہم ایرانی حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بھی کئی آپشنز ہیں۔
یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ امریکا نے حال ہی میں وینزویلا کے صدر مادورو کو گرفتار کیا تھا جنہیں ہتھکڑیاں لگا کر امریکی شہر نیویارک منتقل کیا گیا اور شاید امریکا ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرنا چاہتا ہو، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی حکومت ماضی میں بھی اسرائیل کے حملوں کا سامنا کرچکی ہے جن کی پشت پر مبینہ طور پر امریکا موجود تھا اور اب ایران مزید تیاری کے ساتھ سامنے آیا ہے ، جس نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں واضح کیا تھا کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








