ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) کو اس کی 26 سالہ تاریخ میں ہزاروں سوالات کا سامنا رہا ہے، لیکن جمعرات کو ایک ایسا سوال سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا اِسکی جمپنگ کے کھلاڑی اپنے عضو تناسل میں ہائیلورونک ایسڈ لگا کر زیادہ دور جمپ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
WADA کے صدر وٹولڈ بانکا نے اس پر مسکراتے ہوئے کہا کہ اسکی جمپنگ پولینڈ میں بہت مقبول ہے، اس لیے میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس معاملے کو دیکھوں گا۔
یہ معاملہ جرمن اخبار بلڈ کی رپورٹ کے بعد “Penisgate” کے نام سے سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ناروے کے حالیہ اولمپک میڈلسٹ ماریس لنڈوک اور یوہان آندرے فورفینگ کو 2025 ورلڈ اسکی چیمپئن شپ میں سوٹ کے سلائی والے حصے میں خفیہ تبدیلیاں کرنے پر تین ماہ کی معطلی دی گئی تھی۔ ناروے کے ہیڈ کوچ، اسسٹنٹ کوچ، اور دیگر اسٹاف ممبران پر 18 ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔
سائنسی تحقیق کے مطابق سوٹ کے گرد کے دائرے میں ہر 2 سینٹی میٹر اضافہ سے ڈریگ میں 4 فیصد کمی اور لفٹ میں 5 فیصد اضافہ ہوتا ہے، جو تقریباً 5.8 میٹر اضافی جمپ کے برابر ہے۔
بلڈ کے مطابق جب کھلاڑیوں کی 3D اسکینر کے ذریعے پیمائش کی جاتی ہے، تو بعض کھلاڑی سسٹم کو گیم کرنے کے لیے اپنے عضو تناسل میں ہائیلورونک ایسڈ انجیکشن یا انڈر وئیر میں مٹی ڈالنے جیسے طریقے استعمال کر رہے ہیں تاکہ سوٹ ڈھیلے ہوں۔ ڈاکٹر کامران کریم نے بتایا کہ یہ انجیکشن عارضی طور پر عضو تناسل کو موٹا دکھا سکتا ہے، لیکن یہ طبی طور پر درست نہیں۔
اگرچہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا، واڈا کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ایسا طریقہ جو کھلاڑی کی صحت کے لیے خطرناک ہو اور کھیل کی روح کے خلاف ہو، ممنوع ہوگا۔
واڈا کے ڈائریکٹر جنرل اولیور نگلی نے کہا کہ میں اسکی جمپنگ کی تفصیلات سے واقف نہیں ہوں، لیکن اگر کچھ سامنے آیا تو ہم ہر چیز دیکھیں گے اور یہ طے کریں گے کہ آیا یہ ڈوپنگ سے متعلق ہے یا نہیں۔ ہماری کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لے گی۔
ان واقعات کی روشنی میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ونٹر اولپمک کے دوران اسکی جمپ کے کھلاڑیوں کی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی پینس انجیکشن ٹیسٹ کرسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








