برطانوی ریپر اوکلی نیل سیزر سو، جو پیشہ ورانہ طور پر سینٹرل سی (Central Cee) کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
یہ اعلان حالیہ ایک لائیو اسٹریم کے دوران سامنے آیا، جہاں 25 سالہ آرٹسٹ نے بتایا کہ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا ہے اور باضابطہ طور پر دین اسلام اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا نام بدل لیا اور شہادت دی، اب میں مسلمان ہوں اور اس دوران اسٹریَم میں موجود دوستوں نے انہیں مبارکباد دی۔
اس اعلان سے قبل سینٹرل سی نے عوامی سطح پر کسی رسمی مذہب کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وہ 4 جون 1998 کو لندن میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ انگریز اور والد گیانیز اور چینی نسل کے ہیں۔ والدین کے علیحدہ ہونے کے بعد وہ اپنی والدہ اور دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ شیفرڈز بش میں پروان چڑھے۔
سینٹرل سی نے 2014 میں اپنے موسیقی کے کیریئر کا آغاز کیا، جب وہ اب حذف شدہ سیریز Fire in the Streets میں دکھائی دیے اور بعد میں 2015 میں J Hus کے ساتھ Ain’t On Nuttin Remix میں حصہ لیا۔ ان کا بریک آؤٹ سنگل Day in the Life جون 2020 میں آیا، جس نے انہیں یو کے ڈرل سین میں شہرت دلائی۔
اس کے بعد سے وہ جدید یو کے ریپ کے اہم چہرہ بن گئے، ڈرل موسیقی کو پُرکشش ہُکس اور فکری اور معنی خیز بول کے ساتھ جوڑتے ہوئے۔
2024 میں وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسٹریم کیے جانے والے یو کے ریپر تھے اور انہوں نے یو کے ریپ سین کو بین الاقوامی سامعین سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سینٹرل سی نے اشارہ دیا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ ممکنہ طور پر اپنا نیا اسٹیج نام اختیار کر سکتے ہیں، تاہم تفصیلات ابھی نجی رکھی گئی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








