میرا بیٹا مجھے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے مگر! قومی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز احمد شہزاد رو پڑے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر بلے باز احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لیے منتخب نہ کیے جانے پر نجی ٹی وی پروگرام میں جذباتی ہو گئے۔

احمد شہزاد نے ایک مقامی ٹی وی شو میں فاسٹ بولر محمد عامر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس فیصلے نے انہیں اندر سے بہت متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بہت دکھ ہے۔ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتا ہوں لیکن اپنے لیے دل گرفتہ ہوں۔

آنکھوں میں آنسو لیے احمد شہزاد نے کہا کہ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ میرا بیٹا مجھے کھیلتے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اب نو سال کا ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا رات کو ان کے پاس سوتا ہے اور انہیں دلاسا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ احمد شہزاد کے مطابق وہ مجھ سے کہتا ہے کہ پاپا مجھے یاد ہے آپ کھیلا کرتے تھے اب میں آپ کو صحیح طرح یاد رکھوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مجموعی طور پر زندگی میں خوش ہیں لیکن پی ایس ایل میں شامل نہ ہونا ان کے دل پر گہرا اثر ڈال گیا ہے۔

واضح رہے کہ احمد شہزاد نے 2009 میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور ایک عرصے تک انہیں ملک کے باصلاحیت اوپنرز میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ہر فارمیٹ میں سنچری اسکور کی۔ احمد شہزاد یہ اعزاز بھی رکھتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بلے باز تھے۔

Related Posts