غزہ کے معاملے پر پاکستان کے کردار سے مطمئن ہیں، حماس رہنما کا اہم بیان

تازہ ترین

تازہ ترین

حماس رہنما خالد قدومی
حماس رہنما خالد قدومی، فائل فوٹو

فلسطیین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا ہے کہ غزہ امن بورڈ اور دیگر ادارے کس طرح کام کریں گے یہ ابھی تک واضح نہیں، فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے کردار سے مطمئن ہیں۔

حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی جمعہ کوکراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ کراچی پریس آمد پر پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان،جوائنٹ سیکرٹری فاروق سمیع اور مجلس عاملہ کے اراکین نے ڈاکٹر خالد قدومی کا پر تپاک استقبال کیا۔

ڈاکٹر خالد القدومی نے کہا کہ جنگ بندی کے ذریعے غزہ میں نسل کشی کی مہم روکنے کی کوشش کی ہے۔غزہ امن بورڈ اور دیگر ادارے کس طرح کام کریں گے یہ ابھی تک واضح نہیں۔ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ہر روز غزہ میں معصوم فلسطینیوں کو شہید کیا جارہا ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ غزہ پیس بورڈ میں شامل اسلامی ممالک جنگ بندی کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں اور اسرائیلی حملے رکوایں۔

ڈاکٹر خالد القدومی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے غزہ کے بارے انتہائی خوفناک انکشافات کیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ایسے امریکی بم استعمال ہوئے جو 3500 سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرتے ہیں۔ان بموں کی وجہ سے ہزاروں فلسطینیوں کے لاشیں فضا میں تحلیل ہوگئے۔ہم غزہ میں 72 ہزار سے زائد شہید سمجھتے تھے۔ لیکن اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد خدشہ ہے شہید فلسطینیوں کی تعداد دو لاکھ ہو جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے کردار سے مطمئن ہیں۔ غزہ اور فلسطین کے لیے حکومت پاکستان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  غزہ میں اتنی امداد نہیں پہنچ رہی جتنی ضرورت ہے ۔معاہدے کے تحت غزہ میں روزانہ امدادی سامان کے 600  ٹرک آنا چاہیے۔اسرائیل صرف 50 ٹرکوں کی اجازت دے رہا ہے۔ جو فلسطینیوں کیلئے بہت کم ہے۔ فلسطینی بچوں کو دودھ بھی میسر نہیں ، وہاں پینے کے پانی کی بھی کمی ہے۔غزہ میں اس وقت ادوایات ،سرجیکل آلات اور اسپتالوں کی بحالی کے کام کی اشد ضرورت ہے ۔ ابھی تک اسرائیل پر اتنا دباؤ نہیں ڈالا جاسکا کہ وہ فلسطینیوں کی مکمل امداد بحال ہونے کی اجازت دے۔

ڈاکٹر خالد القدومی نے کہا کہ جنگ بندی کی وجہ سے حماس پر ذمہ داریاں بڑھ گئیں لیکن نیتن یاہو کو روکنے والا کوئی نہیں ۔سوال یہ ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں کیا کریگا ،جب اقوام متحدہ کچھ نہیں کرسکی۔ بورڈ آف پیس میں یورپ کے بہت سے ممالک اور کئی اسلامی ممالک شریک نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے تحت فلسطینی ٹیکنوکریٹ کی کمیٹی کو غزہ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔اسرائیل فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کو غزہ میں داخلے سے روک رہا ہے۔فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی غزہ کی تعمیر نو اور انتخابات کی راہ ہموار کرے گی۔غزہ سے باہر گئے ہوئےہیں۔فلسطینی اب واپس آ رہے ہیں۔فلسطینی شہید ہو جائیں گے لیکن کبھی بھی اپنا وطن غزہ نہیں چھوڑیں گے۔

Related Posts