متحدہ عرب امارات کی بین الاقوامی سطح پر بندرگاہی اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والی مشہور و معروف کمپنی ڈی پی ورلڈ میں نمایاں قیادت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ عیسیٰ کاظم کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین جبکہ یووراج نارائن کو گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب طویل عرصے تک کمپنی کی قیادت کرنے والے سلطان بن احمد سلیمان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
استعفیٰ کیوں آیا؟
دبئی میڈیا آفس کے مطابق قیادت میں یہ تبدیلی ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب سلطان بن سلیم کا نام بدنام زمانہ امریکی مجرم Jeffrey Epstein سے متعلق حالیہ منظرعام پر آنے والی امریکی دستاویزات میں سامنے آیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری مواد میں مبینہ طور پر دونوں کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ای میل رابطوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2007 سے 2017 کے درمیان سینکڑوں ای میلز کا تبادلہ ہوا جو ایپسٹین کی 2008 میں سزا کے بعد بھی جاری رہا۔ ان مراسلات میں کاروباری تجاویز، سفری منصوبے، صحت سے متعلق امور اور دیگر ذاتی موضوعات زیر بحث آئے۔ ایک ای میل میں ایپسٹین نے سلطان بن سلیم کو اپنے قابل اعتماد دوستوں میں شمار کیا تھا۔
دستاویزات میں چند ایسی ای میلز کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں خواتین اور لڑکیوں سے متعلق گفتگو شامل ہے اگرچہ ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان الزامات یا دستاویزات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے ان روابط کی مزید جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور بن سلیم کو ان بااثر شخصیات میں شمار کیا ہے جن کے نام ایپسٹین سے منسلک فہرستوں میں آئے۔
واضح رہے کہ کسی بھی دستاویز میں نام آنا قانونی طور پر جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا اور سلطان بن سلیم کی جانب سے تاحال باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سرمایہ کاری پر اثرات
اس تنازعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برطانیہ کی ترقیاتی مالیاتی ایجنسی British International Investment اور کینیڈا کے دوسرے بڑے پنشن فنڈ نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ نئی سرمایہ کاری عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
مزید برآں برطانوی شاہی شخصیت سے منسلک ماحولیاتی اقدام The Earthshot Prize، جسے Prince William کی سرپرستی حاصل ہے اس کی فنڈنگ کے تناظر میں بھی سوالات اٹھائے گئے کیونکہ ڈی پی ورلڈ اس منصوبے کے شراکت داروں میں شامل رہی ہے۔
سلطان بن سلیم کون ہیں؟
سلطان احمد بن سلیم 1955 میں دبئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے امریکا کی Temple University سے معاشیات میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ 1980 کی دہائی سے وہ دبئی کے تجارتی و لاجسٹکس شعبے میں سرگرم رہے اور جبل علی فری زون کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا جو آج ہزاروں کمپنیوں کا مرکز ہے۔
2005 میں ڈی پی ورلڈ کے قیام کے بعد وہ اس کی قیادت سے وابستہ رہے 2007 میں چیئرمین اور 2016 میں گروپ چیئرمین اور سی ای او بنے۔ ان کی قیادت میں کمپنی نے 2006 میں برطانوی پورٹ آپریٹر P&O کو 6.8 ارب ڈالر میں خرید کر عالمی سطح پر توسیع کی۔
آج ڈی پی ورلڈ چھ براعظموں میں 78 سے زائد ممالک میں آپریشنز چلاتی ہے اور کمپنی کے مطابق عالمی کنٹینر تجارت کے تقریباً 10 فیصد حصے کو سنبھالتی ہے۔ سلطان بن سلیم کو کمپنی کو علاقائی ادارے سے عالمی لاجسٹکس پاور ہاؤس بنانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔
وہ پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زون کارپوریشن کے چیئرمین بھی رہے اور عالمی فورمز میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کے بھائی محمد بن سلیمان عالمی موٹر اسپورٹس تنظیم ایف آئی اے کے صدر ہیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
تازہ تبدیلیوں کے بعد ڈی پی ورلڈ کی ویب سائٹ پر بھی قیادت سے متعلق معلومات اپڈیٹ کر دی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی انتظامیہ کے لیے سب سے اہم چیلنج عالمی ساکھ کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا اور کمپنی کے وسیع آپریشنز کو مستحکم انداز میں جاری رکھنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








