اسرائیلی ٹی وی پروڈیوسر ڈانا ایڈن، جو ایپل ٹی وی کی مشہور سیریز تہران کی کو کری ایٹر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر مشہور تھیں ایتھنز کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔
یونانی پولیس کے مطابق 52 سالہ ڈانا ایڈن اتوار کو مردہ ملیں جب ان کے ایک رشتہ دار نے ان سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ واقعہ خودکشی کے زمرے میں آتا ہے اور کسی بیرونی حملے یا بدنیتی کا شبہ نہیں پایا گیا۔
ڈانا ایڈن اس وقت یونان میں تھیں کیونکہ سیریز تہران کے چوتھے سیزن کی شوٹنگ جاری تھی۔ یہ جاسوسی ڈرامہ 2020 میں شروع ہوا تھا اور 2021 میں اس نے انٹرنیشنل ایمی ایوارڈ بھی جیتا تھا۔ کہانی ایک ایرانی نژاد اسرائیلی موساد ایجنٹ کے گرد گھومتی ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے مشن پر جاتی ہے۔ اسرائیلی شہریوں پر ایران جانے کی پابندی کی وجہ سے شو کی زیادہ تر شوٹنگ ایتھنز میں کی جاتی ہے جو تہران کی طرح کا منظر پیش کرتا ہے۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر کان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ڈانا ایڈن کے انتقال پر شدید غمگین ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈانا نے متعدد پروڈکشنز میں حصہ لیا اور تہران کی پیچیدہ پروڈکشن کی نگرانی کے لیے یونان گئی تھیں۔ان کی پیشہ ورانہ لگن اور تخلیقی محبت نے اسرائیلی ٹی وی پر ایک گہرا اثر چھوڑا ہے۔
ڈانا ایڈن کی پروڈکشن کمپنی Danna & Shula Productions نے بھی ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ یہ واقعہ خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے انتہائی دکھ کا لمحہ ہے۔
اسرائیل کے وزیر ثقافت مکی زوہار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈانا ایڈن اسرائیلی ٹی وی انڈسٹری کی ایک نمایاں اور بااثر پروڈیوسر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈانا نے اپنی صلاحیت حوصلہ اور فخر کے ساتھ اسرائیلی کہانیوں کو عالمی سطح تک پہنچایا۔
یاد رہے کہ تہران میں ایرانی اداکار بھی شامل ہیں جو ایران کے رژیم سے فرار ہوئے تھے۔ ایمی ایوارڈ کی تقریب میں ڈانا ایڈن نے کہا تھا کہ یہ شو صرف جاسوسی نہیں بلکہ دشمن کے پیچھے انسانی پہلو کو سمجھنے کی کوشش ہے اور امید ہے کہ ایرانی اور اسرائیلی دوست ایک ساتھ چل سکیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








