قیامت کی ایک اور نشانی سامنے آگئی، فزکس میں حرکت کے قوانین وضع کرنے والے سائنسدان آئزک نیوٹن نے سال 2060 میں دنیا کے اختتام کی پیشگوئی کی تھی۔
آئزک نیوٹن کو بابائے جدید سائنس کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، جس نے اپنی نجی تحریروں میں دعویٰ کیا کہ سال 2060 میں دنیا ختم ہوجائے گی۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ آئزک نیوٹن 1643میں پیدا ہوئے جن کا انتقال 1727 میں ہوا اور وہ سائنسدان کے علاوہ شارح بائبل بھی کہلاتے ہیں۔
سال 2003 میں عوامی سطح پر آئزک نیوٹن کی اس پیشگوئی کا ذکر اس وقت شدت اختیار کرگیا جب ایک عالمی جریدے نے اس پر ایک مضمون شائع کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بائبل کی کتاب دانیال میں 1260روز کا ذکر ہے اور نیوٹن نے انہیں 1260 برس سمجھا۔
اپنی بائبل کی تشریح میں نیوٹن نے پیشگوئی کا آغاز سال 800عیسوی سے شروع کیا جہاں سے نیوٹن کے خیال میں چرچ کی بدعنوانی کا آغاز ہوا تھا، 800 اور 1260 کو جمع کرنے سے جو سال سامنے آتا ہے وہ 2060 ہے۔ نیوٹن کا کہنا تھا کہ دنیا کے اختتام کا وقت اس کے بعد بھی ہوسکتا ہے لیکن اس سے پہلے ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
تاہم نیوٹن کے نزدیک یہ عہد دنیا کے خاتمے کی بجائے مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی، یہودیوں کی اسرائیل میں واپسی اور 1000سالہ بادشاہی کے آغاز سے منسلک ہے، تاہم اسلام اور مسیحیت کے قیامت کے متعلق عقائد میں بہت سے اہم اختلافات موجود ہیں، اور آئزک نیوٹن بائبل کو مستقبل کی تاریخ سمجھتے تھے۔
قیامت کی نشانی؟
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام نے قیامت کی بہت سی نشانیاں بتائیں لیکن کبھی قیامت کا واضح وقت یا ایسا اشارہ نہیں دیا جس کی مدد سے قیامت کا درست وقت متعین ہوسکتا۔ بہت سے اسلامی اسکالرز نے بھی قیامت یا دنیا کے اختتام کے سال کی پیشگوئی کی، تاہم ایسی تمام پیشگوئیاں وقت کے ساتھ ساتھ غلط ثابت ہوتی آئی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








