بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں انتہا پسند ہندو شخص کے قدیم مزار مسمار کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ پولیس نے انتہا پسند تنظیم ہندو رکھشا دل کے عہدیدار پرنس ٹھاکر کو گرفتار کرلیا ہے۔
غازی آباد میں غیر قانونی تعمیر کے نام پر قانون ہاتھ میں لیا گیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندو رکھشا دل کے سربراہ پنکی چودھری نے گرفتاری پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی بھی دی۔ واقعے پر اب تک 2 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔
देखिए किस तरह से यह आदमी, गाजियाबाद के नवयुग मार्केट में मजार तोड़ी रहा है. लोगों के अंदर से डर ख़त्म हो गया है ।
हालाकि पुलिस ने बताया कि वीडियो कई दिन पुराना है
— Priya singh (@priyarajputlive) February 17, 2026
سوشل میڈیا پر مزار مسمار کرنے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کم و بیش 25سالہ ہندو انتہا پسند پرنس ٹھاکر چند ساتھیوں کے ہمراہ مزار کے انفراسٹرکچر کو ہتھوڑے سے توڑ ڈالتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم نے مزار کو نقصان بھی پہنچایا اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل بھی کی۔جنوری میں بھی ایک مزار کو اسی طرح مسمار کیا گیا تھا۔
The massive Yusuf Baba Mazar, built unlawfully on forest land in Uttarakhand, was demolished by authorities today. pic.twitter.com/J5X714RrSz
— Team Hindu United (@TeamHinduUnited) January 8, 2026
ویڈیو میں پرنس ٹھاکر سمیت دیگر کے اشتعال انگیز بیانات بھی سامنے آئے جس سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پرنس ٹھاکر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مزار سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ ہندو رکھشا دل کے لوگ تجاوزات کو برداشت نہیں کریں گے۔
یہی نہیں، بلکہ مزار مسمار کرنے کے بعد ملبہ بھی صاف کرادیا گیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں نے انتظامیہ کو مزید اقدامات اٹھانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ واضح رہے کہ بھارت میں آئے دن مساجد اور مزارات سمیت مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہیں انتہا پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








