بھارت: غازی آباد میں مزار مسمار کرنے کی ویڈیو وائرل، انتہا پسند ہندو گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

مزار مسمار
(فوٹو: آن لائن)

بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں انتہا پسند ہندو شخص کے قدیم مزار مسمار کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ پولیس نے انتہا پسند تنظیم ہندو رکھشا دل کے عہدیدار پرنس ٹھاکر کو گرفتار کرلیا ہے۔

غازی آباد میں غیر قانونی تعمیر کے نام پر قانون ہاتھ میں لیا گیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندو رکھشا دل کے سربراہ پنکی چودھری نے گرفتاری پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکی بھی دی۔ واقعے پر اب تک 2 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مزار مسمار کرنے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کم و بیش 25سالہ ہندو انتہا پسند پرنس ٹھاکر چند ساتھیوں کے ہمراہ مزار کے انفراسٹرکچر کو ہتھوڑے سے توڑ ڈالتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ملزم نے مزار کو نقصان بھی پہنچایا اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل بھی کی۔جنوری میں بھی ایک مزار کو اسی طرح مسمار کیا گیا تھا۔

ویڈیو میں پرنس ٹھاکر سمیت دیگر کے اشتعال انگیز بیانات بھی سامنے آئے جس سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پرنس ٹھاکر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مزار سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ ہندو رکھشا دل کے لوگ تجاوزات کو برداشت نہیں کریں گے۔

یہی نہیں، بلکہ مزار مسمار کرنے کے بعد ملبہ بھی صاف کرادیا گیا۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں نے انتظامیہ کو مزید اقدامات اٹھانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ واضح رہے کہ بھارت میں آئے دن مساجد اور مزارات سمیت مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہیں انتہا پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔

Related Posts