سولر صارفین کیلئے بڑی خوشخبری، نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) 9 فروری کو جاری کیے گئے ضوابط میں ترمیم کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت موجودہ سولر صارفین بدستور اضافی بجلی قومی گرڈ کو انہی نرخوں پر فروخت کر سکیں گے جن پر وہ بجلی خریدتے ہیں۔

یہ فیصلہ ہزاروں نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اطمینان کا باعث بنا ہے، جنہوں نے پہلے جاری ہونے والی ریگولیٹری تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ مالی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سولر صارفین کے لیے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ نیپرا نے اعلان کیا ہے کہ مجوزہ ترامیم پر متعلقہ فریقین اور اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن کے اندر تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مجوزہ ترامیم کا اطلاق 9 فروری سے ہوگا، تاہم موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے پالیسی اور شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

نیپرا کے مطابق موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے نرخوں یا معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور وہ نیٹ بلنگ کے بجائے نیٹ میٹرنگ سے ہی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق موجودہ صارفین کے سات سالہ معاہدے اور بائے بیک ریٹس بھی بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہیں گے۔

دوسری جانب نئے صارفین پر نئے ضوابط لاگو ہوں گے اور ان کے لیے نیٹ بلنگ سسٹم متعارف ہوگا، جس میں پانچ سالہ معاہدہ اور بائے بیک ریٹ قومی اوسط ٹیرف کے مطابق ہوگا۔

یاد رہے کہ نیپرا اس سے قبل پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کے خاتمے اور نیٹ بلنگ کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف اپنی پیدا کردہ بجلی سے زیادہ استعمال کرے گا تو اسے استعمال شدہ بجلی کی ادائیگی موجودہ ٹیرف کے مطابق کرنا ہوگی، جبکہ اضافی بجلی 27 روپے فی یونٹ کے بجائے قومی اوسط ٹیرف پر خریدی جائے گی۔

نیٹ بلنگ کے تحت بجلی کی خرید و فروخت قومی اوسط ٹیرف کی بنیاد پر ہوگی اور ہر بلنگ سائیکل کے اختتام پر حساب کتاب کیا جائے گا۔ اگر کوئی اضافی رقم باقی رہ جائے تو اسے اگلے بل میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے یا سہ ماہی بنیادوں پر ادا کیا جا سکتا ہے۔

Related Posts