علیمہ خان نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا علاج الشفاء اسپتال میں ذاتی معالج کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اس وقت ممکن ہوگی جب جسٹس سرفراز ڈوگر کے کیسز کی سماعت ہو جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی ضمانتیں ملیں گی عمران خان کو جیل سے سیدھا الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے گا تاکہ ان کا علاج شروع کیا جا سکے۔
علیمہ خان نے چیف جسٹس پر زور دیا کہ وہ کیسز سنیں کیونکہ سماعت کے لیے مقرر جج چھٹی پر چلے گئے جو کہ ان کے نزدیک ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے فوراً بعد ان کا آنکھ کا علاج اسپتال میں کیا جائے گا۔
علیمہ خان نے مزید بتایا کہ عمران خان کی آنکھ ایک دن میں خراب نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے مرکزی ذمہ دار سابق سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ غفور انجم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف مجرمانہ غفلت اور کرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا اور وکلا کو اس حوالے سے ہدایات بھی دے دی گئی ہیں۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر شرم آنی چاہیے۔ فیملی اور ذاتی معالج کی غیر موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا گیا۔ علیمہ خان نے بتایا کہ جب ان کی بہن نے آخری بار عمران خان سے ملاقات کی، تو خان صاحب نے یہی پیغام دیا تھا کہ یہ مجھے ختم کر دیں گے۔
علیمہ خان نے کہا کہ جب انہوں نے یہ پیغام عوام تک پہنچایا تو ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عمران خان، حامد رضا اور دیگر کے خلاف بنائے گئے کیسز سیاسی بنیادوں پر ہیں اور یہ کیسز جلد ہوا میں اڑ جائیں گے۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے محسن نقوی ضمانت دے رہے تھے کہ فیملی اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں اسپتال سے علاج کروایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے وزیر داخلہ کی غلط بیانی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر اسپتال نہیں لایا جا رہا تو ہم اپنا بلڈ ٹیسٹ کروا لیں گے اس لیے خدشات ہونا فطری ہے۔
علیمہ خان نے زور دیا کہ وہ اسپتال منتقل نہ کرنے اور فیملی سے ملاقات نہ کرنے پر سوالات اٹھاتی رہیں گی اور کہا کہ یہ سب احمقانہ مقدمات ہیں جو سیاسی انتقام کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ وہ سچ بولتی ہیں لیکن ان کی رائے میں یہ سب کارروائیاں جھوٹے سیاسی نظام کو بچانے میں ناکام رہیں گی اور جلد عوامی طاقت ملک کی قیادت کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








