پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں غربت کم کرنے کی پیش رفت رک گئی ہے، اور نئے سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک کی ایک تہائی آبادی انتہائی غریب ہے۔ وہ لوگ جن کی آمدنی غربت کی حد سے کم ہے، ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تازہ ترین ڈیٹا برائے 2024-25 گھریلو سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو واضح کرتا ہے، جو مہنگائی، سست شرح نمو اور ملک بھر میں طویل مدتی مالی عدم استحکام کے اثرات کا عکاس ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 25-2024 میں 28.8 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں، 19-2018 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جس کے بعد اس مدت میں 6.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
غربت کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ملک کے تمام صوبوں میں دیکھا گیا، جس میں پنجاب اور سندھ میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخواہ میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور بلوچستان میں معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا۔
یہ تازہ ترین اعداد و شمار گزشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی کمی کے برخلاف ہیں، کیونکہ اس سے قبل غربت کی شرح میں مسلسل کمی آ رہی تھی، جو 25-2024 میں دوبارہ بڑھ گئی۔
یہ نئے تخمینے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 25-2024 مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ سروے کے بعد وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں 17 رکنی کمیٹی برائے غربت تخمینہ تشکیل دی۔ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر جی ایم عارف نے سروے کے نتائج کا جائزہ لیا۔
سرکاری حکام غربت کا تعین کرنے کے لیے کوسٹ آف بیسک نیڈز کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، جسے مہنگائی کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے ذریعے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، تاکہ ملکی سطح پر غربت کی حد کا تعین کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








