پاکستان اور سعودی عرب سمیت متعدد مسلم ممالک نے امریکی سفیر کا بیان مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کو دریائے نیل سے نہر فرات تک پورے مشرق وسطیٰ پر قبضے کا حق حاصل ہے، جس کی پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرم امارات اور اردن سمیت کئی مسلم ممالک نے سختی سے مذمت کی۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور خلیج تعاون تنظیم کے مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایسے بیانات خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہوسکتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کا بیان صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے ویژن اور غزہ تنازعے کے خاتمے کے جامع منصوبے سے متصادم ہے۔ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی اور عرب زمینوں پر کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل دریائے نیل سے نہر فرات تک کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلے تو یہ درست ہوگا، جبکہ دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا تصور بنیادی طور پر ایک ایسی جغرافیائی اصطلاح ہے جس کا تعلق گریٹر اسرائیل کے شدت پسند نظرئیے سے منسلک ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








