پیٹولیم مصنوعات میں سستے کیمیکل کی ملاوٹ کا انکشاف سامنے آگیا، جسے مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیرپیٹرولیم اورچیئرمین اوگرا کو خط لکھ کر معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھا دیا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وزیر پیٹرولیم کو تحریر کیے گئے خط میں انکشاف کیا کہ سالونٹ آئل جو مخصوص صنعتوں کیلئے تیار اور فروخت ہوتا ہے، اس سے پیٹرول اور ڈیزل میں ملا کر فروخت کر کے ناجائز منافع کمانا گاڑیوں کے انجن کیلئے بھی نقصان دہ عمل ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کیمیکل ملے پیٹرول کی فروخت سے قانونی پٹرول پمپ مالکان کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت بھی ٹیکس کی مد میں بڑے خسارے کا سامنا کرتی ہے۔ سالونٹ آئل مضر صحت ہونے کے باعث کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سالونٹ آئل ذرائع کی تحقیقات، مقامی ریفائنریز کی پیداوار اور فروخت کے ڈیٹا کی نگرانی اور درآمد شدہ سالونٹ آئل کی کسٹمز کلیرنس، خریداروں، تقسیم کے ریکارڈ کی نگرانی، پیداوار اور درآمد کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








