وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے بجلی اور گیس کے بھاری بلوں میں ریلیف کی ایک اہم تجویز پر کام شروع کر دیا ہے۔ موجودہ نظام میں جو بل یونٹس کی کھپت کی بنیاد پر بنتے ہیں اسے تبدیل کرکے آمدنی کی بنیاد پر سبسڈی دینے کا ماڈل متعارف کروانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
اس مجوزہ تبدیلی کے تحت سبسڈی اب گھر کی ماہانہ یا سالانہ آمدنی کو دیکھ کر دی جائے گی نہ کہ صرف استعمال ہونے والے یونٹس کی تعداد پر۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مالی معاونت صرف واقعی مستحق اور کم آمدنی والے خاندانوں تک پہنچے جبکہ زیادہ آمدنی والے گھرانے توانائی کی اصل قیمت کے قریب ادائیگی کریں۔ اس طرح غیر ضروری سبسڈی کے رساؤ کو روکا جا سکے گا اور نظام زیادہ منصفانہ بنے گا۔
یہ اصلاحات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بات چیت کر رہا ہے جہاں فنڈ کا زور ہے کہ کوئی بھی تبدیلی کم اور درمیانی آمدنی والے طبقات پر بوجھ نہ ڈالے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والوں کو براہ راست بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے معاوضہ دیا جا سکتا ہے جبکہ لائف لائن، پروٹیکٹڈ اور دیگر سلیبز کی موجودہ رعایتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
یہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کا حصہ ہے اور اسے جنوری 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے اگلے دورے میں اس پر مزید پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر نافذ ہوا تو یہ پاکستان میں بجلی اور گیس کے نرخ کے نظام میں ایک بڑی ساختاتی تبدیلی ثابت ہو گی، جو غریب اور متوسط طبقے کو تحفظ دے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








