پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز میں شدید تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ٹیم کی اکثریتی شیئرز (تقریباً 90 فیصد) ایک نئی پارٹی کو فروخت کیے جانے کے قریب پہنچ گئی ہیں جبکہ او زی گروپ مالی اور انتظامی مسائل کا شکار ہے اور سابق پارٹنرز کے نکل جانے کے بعد مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب او زی ڈیولپرز نے جنوری 2026 میں پی ایس ایل کی توسیع کے تحت سیالکوٹ فرنچائز 185 کروڑ روپے (تقریباً 6.55 ملین ڈالر) میں حاصل کی تھی جو لیگ کی سب سے مہنگی ٹیموں میں سے ایک بنی۔ ٹیم کا نام جنوری کے آخر میں اور لوگو فروری میں جاری کیا گیا تھا۔
تاہم اب ملکیت کے تنازع میں محمد شاہد (جو آسٹریلیا میں مقیم کاروباری ہیں) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ٹیم کی 76 فیصد شیئرز ہیں جبکہ ان کے پارٹنر حمزہ مجید او زی ڈیولپرز سے وابستہ) کے پاس صرف 24 فیصد ہیں۔ محمد شاہد نے پی ایس ایل کے سی ای او سلمان ناصر کو شکایت درج کروائی ہے اور الزام لگایا ہے کہ اقلیتی شیئر ہولڈرز ان کی رضامندی کے بغیر شیئرز فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں تک کہ ان کی شیئرز سے زیادہ قیمت پر ڈیلز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق او زی گروپ کو فیس ادائیگی میں تاخیر اور دیگر مسائل کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں 75 فیصد شیئرز ایک نئی پارٹی (بعض ذرائع میں الفا اسپورٹس کا ذکر ہے) کو فروخت کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اگر ادائیگیاں نہ ہوئیں تو پی سی بی بینک گارنٹی کیش کر سکتا ہے اور اگلے ہفتے اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
یہ تنازع پی ایس ایل 2026 کے آغاز سے پہلے ہی ٹیم کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ ٹیم ابھی تک کوئی میچ نہیں کھیل سکی اور بورڈ روم میں لڑائی، الزامات اور قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں جاری ہیں۔ پی سی بی اس معاملے کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ لیگ کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








