افغانستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کی موجودہ صورتِ حال محض سرحدی جھڑپوں یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسی تاریخی، نظریاتی اور جغرافیائی گتھی ہے جس کی جڑیں ڈیورنڈ لائن 1893ء سے لے کر آج کے بدلتے ہوئے منظرنامے تک پھیلی ہوئی ہیں، جہاں سنگین باہمی بداعتمادی، اسٹریٹجک مفادات اور داخلی سلامتی کے تقاضے ایک دوسرے میں یوں پیوست ہو چکے ہیں کہ کسی ایک پہلو کو نظرانداز کرنا پورے منظرنامے کو مسخ کر دینے کے مترادف ہوگا۔
افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف وہی مخاصمت برقرار رکھی جس کا اظہار ماضی میں افغانستان کی مختلف حکومتیں کرتی رہی ہیں، اور جس کی بنیاد قیامِ پاکستان سے بھی قبل کھینچی گئی اس سرحدی لکیر میں مضمر ہے جسے افغان حکومت نے کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد افغانستان کی جانب سے نہ صرف پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے میں تامل کیا گیا بلکہ 1947ء میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت بھی اسی ذہنیت کا مظہر تھی۔ اس کے برعکس پشتونستان تحریک کی حمایت، سرحدی علاقوں میں علیحدگی پسند بیانیے کی سرپرستی اور پاکستان کے مغربی حصے کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے کی کوششیں ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہیں۔
یہ امر اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کی کئی دہائیوں تک میزبانی کی، انہیں عالمی سفارتی تنہائی سے نکالنے کی بھی کوشش اور دوحہ معاہدے کے دوران بھی معاونت فراہم کی، اس امید کے ساتھ کہ جب کابل میں طالبان حکومت قائم ہوگی تو وہ کم از کم پاکستان کے خلاف دشمنی کی وہی پرانی روش اختیار نہیں کرے گی جو سابقہ حکومتوں کا خاصہ رہی ہے۔ تاہم 2021ء کے بعد منظرنامہ جس انداز میں تشکیل پایا، اس نے ان توقعات کو رفتہ رفتہ معدوم کر دیا۔
اگرچہ افغان طالبان کی جانب سے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں اپنے مفادات کے تحت بعض اقدامات کیے جس سے طالبان کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچا، تاہم یہ دلیل اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ ریاستوں کے مابین تعلقات جذبات یا احسان مندی پر نہیں بلکہ باہمی مفادات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر استوار ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں جب پاکستان نے ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کا عمل شروع کیا تاکہ سرحدی دراندازی اور دہشت گردی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے تو افغانستان کی جانب سے اس پر شدید تحفظات اور بعض مقامات پر مزاحمت دیکھنے میں آئی، جس نے بداعتمادی کی خلیج کو مزید وسیع کر دیا۔
صورتِ حال اس وقت سنگین رخ اختیار کرنے لگی جب افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو نہ صرف افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں بلکہ عملی طور پر انہیں منظم ہونے، تربیت حاصل کرنے اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی سہولت کاری بھی کی ۔ نتیجتاً پاکستان میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے، جن میں سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی شہادت کے ساتھ ساتھ شہری آبادی بھی نشانہ بنی۔ چند روز قبل ہی اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں خودکش دھماکے، اور ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والے سانحات نے قومی صبر کے پیمانے کو لبریز کر دیا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے کہ یہ کارروائیاں خارجی عناصر نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر کیں، جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور داعش خراسان سمیت مختلف گروہوں نے قبول بھی کی۔ ایسے میں جب طالبان حکومت کو بارہا سفارتی سطح پر آگاہ کیا گیا کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، مگر کوئی ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہ آیا، تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی مؤثر راستہ باقی نہ رہا۔
گزشتہ شب پاکستان نے ایک بڑے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کے تحت صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل، ننگرہار کے ضلع خوگیانی اور جلال آباد کے ضلع کامی سمیت مختلف سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔ جیٹ طیاروں کی کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوا اور اطلاعات کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ کارروائی کسی جارحانہ عزائم کا اظہار نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی جانب سے اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر اقدام سمجھا گیا، جسے طویل سفارتی تنبیہات اور انتباہات کے بعد اختیار کیا گیا۔
افغان حکومت کی جانب سے اس پر واویلا کیا گیا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں بچے اور بزرگ بھی موجود تھے اور یہ کہ وہ دینی تعلیم کے مراکز تھے، تاہم پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ کارروائی مکمل انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی اور اس کا ہدف صرف دہشت گرد کیمپس اور ان سے منسلک تنصیبات تھیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی متعدد رپورٹس میں افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں بھی اسی تشویش کا اعادہ کیا گیا ہے، جو اس مسئلے کو محض دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی خطرہ قرار دیتی ہیں۔
دوحہ معاہدہ، جس کے تحت طالبان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، اب عملاً سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اگر طالبان حکومت نہ تو ان عناصر کو کنٹرول کر پا رہی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف مؤثر کارروائی کر رہی ہے، تو یہ صورتِ حال بین الاقوامی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ترکیہ اور قطر جیسے دوست ممالک کی وساطت سے مذاکرات کیے بلکہ یہاں تک پیشکش کی کہ اگر افغانستان کے پاس استعداد کار کا فقدان ہے تو پاکستان مشترکہ کارروائی کے لیے عسکری معاونت فراہم کرنے کو تیار ہے، مگر اس پیشکش کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
پاکستان ایک بھاری دل کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا کہ داخلی سلامتی کو لاحق خطرات کو مزید نظرانداز کرنا ریاستی ذمہ داری سے انحراف ہوگا۔ اگرچہ افغان عوام مذہبی، ثقافتی اور تاریخی حوالوں سے پاکستان کے ساتھ گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور کسی بھی عسکری کشیدگی کے اثرات سرحدی علاقوں میں بسنے والے عوام پر مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم ریاست کے لیے اولین ترجیح اپنے شہریوں کا تحفظ ہے، جو کسی بھی سفارتی مصلحت پر مقدم ہے۔
اب خدشہ یہ ہے کہ اگر طالبان حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی اور دوحہ معاہدے کی روح کے مطابق دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہ اٹھائے تو بین الاقوامی برادری بھی سخت مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان عالمی طاقتوں کی مہم جوئیوں کا میدان بنتا رہا ہے، اور اگر ایک بار پھر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے عوام یقیناً کسی نئی مداخلت یا محاذ آرائی کے خواہاں نہیں، مگر وہ یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی سرزمین اور شہری مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہیں۔
لہٰذا موجودہ صورتِ حال ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، جہاں افغان طالبان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف حقیقی اقدامات کریں گے یا پھر ماضی کی روش اختیار کرتے ہوئے خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دیں گے۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا اور اقوامِ عالم بھی افغان طالبان سے حقیقی اقدامات چاہتی ہیں؛ اب فیصلہ طالبان حکومت کا ہے کہ وہ تاریخ کے اس موڑ پر کس سمت کا انتخاب کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








