امریکا: 150 برس کا بدترین برفانی طوفان: مختلف ریاستوں میں ریکارڈ برفباری، ہنگامی حالت نافذ

تازہ ترین

تازہ ترین

برفانی طوفان
(فوٹو: آن لائن)

امریکہ کے شمال مشرقی حصے میں آنے والے شدید برفانی طوفان نے نیویارک، رہوڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس اور ملحقہ ریاستوں میں معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں یہ سب سے طاقتور موسمی نظاموں میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض مقامات پر اسے گزشتہ ڈیڑھ صدی کا بدترین طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ موسمیات نے اس سسٹم کو ’’کلاسک بم سائیکلون‘‘ یا ’’نارایسٹر‘‘ کی درجہ بندی دی ہے۔ بم سائیکلون اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی طوفانی نظام کا فضائی دباؤ 24 گھنٹوں کے اندر غیر معمولی حد تک کم ہو جائے۔ ماہرین کے مطابق آرکٹک سے آنے والی یخ بستہ ہواؤں اور نسبتاً گرم و مرطوب فضائی لہروں کے تصادم کے نتیجے میں شدید برفباری اور 60 سے 80 میل فی گھنٹہ تک تیز رفتار ہوائیں چلتی ہیں، جس سے صورتِ حال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔

کئی ریاستوں میں برفباری کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ رہوڈ آئی لینڈ اور میساچوسٹس کے بعض علاقوں میں 37 انچ تک برف ریکارڈ کی گئی، جبکہ رہوڈ آئی لینڈ کے دارالحکومت پروویڈنس میں 36 انچ برفباری نے 1978 کے 28.6 انچ کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں 19 انچ سے زائد برف پڑی، جس کے بعد شہر میں چھ برس کے وقفے کے بعد باقاعدہ ’’سنودے‘‘ کا اعلان کیا گیا۔

شدید موسمی حالات کے باعث نیویارک سٹی تقریباً مکمل طور پر بند رہا اور شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی۔ فضائی آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا، ملک بھر میں 5 ہزار 700 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں۔ نیویارک کے لاگارڈیا اور جان ایف کینیڈی ایئرپورٹس سے 90 فیصد سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ بوسٹن لوگن انٹرنیشنل اور نیوارک لبرٹی ایئرپورٹ بھی شدید متاثر ہوئے۔

برف کی موٹی تہہ اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ریاستوں میں غیر ضروری سفر پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اہم شاہراہوں پر رفتار کی حد کم کر دی گئی۔ مشرقی ساحلی علاقوں میں 6 لاکھ سے زائد گھروں اور کاروباری مراکز کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ نیو جرسی اور میساچوسٹس زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ کیپ کوڈ کے بعض علاقوں میں 80 فیصد سے زائد صارفین بجلی سے محروم رہے۔ درخت گرنے اور برقی تاروں کو نقصان پہنچنے کے باعث بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے اور مکمل بحالی میں کئی دن لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ اسی ہفتے ایک اور موسمی نظام خطے کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے مزید برفباری اور شدید سردی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں برفباری کی شدت میں کمی آ رہی ہے، تاہم برف صاف کرنے، منجمد درجہ حرارت اور بجلی کی بحالی کے باعث معمولاتِ زندگی کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا۔

یہ برفانی طوفان شدت، انتظامی دباؤ اور سفری بحران کے حوالے سے حالیہ برسوں کے بڑے قدرتی چیلنجز میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے شمال مشرقی امریکہ کو غیر معمولی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

Related Posts