خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں معمولی تلخ کلامی پر بیمار انسانوں کو امراض سے نجات دلانے والی ڈاکٹر مہوش کو قتل کردیا گیا، پولیس نے کیس میں مطلوب دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کوہاٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ڈاکٹر مہوش کے قتل کے کیس میں مطلوب ملزمان کی شناخت حیات گل اور سیف علی کے نام سے ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان کی تصاویر جاری کی تھیں۔
کوہاٹ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان واقعے کے بعد مفرور تھے، ڈی پی او کوہاٹ شہباز الٰہی نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی افراد کے تعاون سے ملزمان کی گرفتاری ممکن بنائی گئی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ
دوسری جانب مقتولہ ڈاکٹر مہوش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مہوش کو نائن ایم ایم پستول کی 7گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جو ہاتھوں، سینے اور پیٹ میں لگیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید فائرنگ کے نتیجے میں مقتولہ کے دل، جگر، گردے اورپھپھڑوں سمیت اہم اعضا شدید زخمی ہوگئے، جو بالآخر ڈاکٹر مہوش کے انتقال کی وجہ بن گئے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے اور مالاکنڈ اور مردان کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز نے کام سے انکار کردیا۔
خیال رہے کہ کوہاٹ ہسپتال میں معمولی تلخ کلامی کے بعد ڈاکٹر مہوش کو ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت اہلیان علاقہ میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








