گزشتہ 150سالوں سے پڑھائی جانے والی سائنس مسترد ہوگئی، ہائبرڈ سیل کی دریافت سے انقلاب آگیا ہے جبکہ سمندری مچھلیوں کے لاروا میں دریافت کیا گیا۔ نئے بصری خلیے کی دریافت نے ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی بصارت میں طویل عرصے سے موجود تصورات کو بدل کر رکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق علم حیاتیات میں ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کو فقاریہ جانور کہا جاتا ہے۔ سمندر میں جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچ پاتی، وہاں بھی زندگی پائی جاتی ہے اور اس گھپ اندھیرے میں روشنی غائب ہونے کے ساتھ ساتھ رنگ بھی غائب ہوجاتے ہیں۔
اس مقام پر مچھلیوں سمیت دیگر جانداروں کی بصری حساسیت میں چھوٹی سی بہتری بھی خوراک تلاش کرنے اور بھوکے رہنے کے درمیان فرق پیدا کر سکتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ گہری سمندری مچھلیوں کے لاروا نے ایک حیرت انگیز چیز ظاہر کی ہے جو روایتی ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی بصارت کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی۔
سائنسدانوں نے لاروا کے گہری سمندری مچھلیوں میں ایک پہلے نامعلوم روشنی محسوس کرنے والے خلیے کی شناخت کی ہے۔ یہ دریافت اس طویل عرصے سے قائم خیال کو چیلنج کرتی ہے کہ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی ریٹینا صرف دو بنیادی فوٹو رسیپٹرز پر منحصر ہوتی ہے: روشن روشنی کے لیے کونز اور تاریکی کے لیے راڈز، اور اب یہ نظریہ بدلنے والا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ کام بالآخر نئی تصویری ٹیکنالوجیز اور طبی تحقیق میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔150 سال سے زیادہ عرصے سے نصابی کتابوں میں یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ زیادہ تر ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی بصارت کونز اور راڈز سے بنتی ہے –
کونز خلیات جو روشن روشنی میں کام کرتے ہیں اور راڈز جو تاریک حالات کے لیے ہیں۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہماری گہری سمندری مچھلیوں کے لاروا کے مطالعے نے ایک نیا خلیہ ظاہر کیا – ایک ایسا فوٹوریسیپٹر جو مدھم یا گھپ اندھیرے والے حالات میں بصارت کو بہتر بناتا ہے۔”
ماہرین کے مطابق یہ خلیہ کونز کے مالیکیولر میکانزم اور جینز کو راڈز کی شکل و صورت کے ساتھ جوڑتا ہے۔۔ یہ ہائبرڈ خلیہ روشن اور تاریک روشنی کے نظام کے بہترین پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے، اور گھپ اندھیرے میں بصارت کے لیے واقعی مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








