ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشترکہ امریکی اسرائیلی فوجی حملے میں شہادت کے بعد بڑی تعداد میں مظاہرین نے کراچی میں امریکی سفارت خانے پر ہلہ بول دیا۔ اس دوران مظاہرین نے قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔
مظاہرین نے ایران پر ہونے والے مبینہ ہدف شدہ حملے پر شدید غصے کا اظہار کیا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے جو تقریباً چار دہائیوں سے ایران پر حکمرانی کر رہے تھے اور تہران کی داخلی اور خارجہ پالیسی میں مرکزی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔
کراچی میں مظاہرین سکیورٹی حصار توڑ کر امریکی قونصل خانے میں داخل ہو گئے ہیں۔ مظاہرین میں سے ایک شخص زینبیون بریگیڈ کا جھنڈا تھامے ہوئے ہے۔ (ویڈیو: حیدر ترابی/فیس بک لائیو) pic.twitter.com/yTjvCtkRq4
— Naimat Khan (@NKMalazai) March 1, 2026
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے آنسو گیس کے گولے اور وارننگ شاٹس فائر کیے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
حکام نے عوامی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عارضی ٹریفک اقدامات اٹھاتے ہوئے سلطان آباد اور مئی کولاچی کے درمیان سڑکیں بند کر دی ہیں اور جناح برج سے آنے والی ٹریفک کو آئی آئی چندریگر روڈ کے ذریعے موڑ دیا گیا تاکہ علاقے میں ٹریفک کی بھیڑ کم ہو اور عوامی امن قائم رہے۔
اس سے قبل، بڑی تعداد میں لوگ نمائش چورنگی پر جمع ہوئے اور مختلف مقامات پر دھرنے دیے، جس کی وجہ سے ٹریفک میں شدید خلل پیدا ہوا۔
کراچی کے حکام نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز صورتحال پر مکمل قابو رکھے ہوئے ہیں اور عوامی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
دوسری طرف لاہور میں پریس کلب کے سامنے اور امریکی قونصل خانے کے قریب بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے احاطے میں توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش بھی کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








