پاکستان نے ہفتے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں ایک نازک سفارتی راستہ اختیار کیا۔ پاکستان نے ایران پر غیر ضروری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خلیجی ریاستوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور فوری طور پر بات چیت اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔
ہفتے کے روز اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر ایک سلسلہ وار فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔
ہنگامی اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا جس میں کونسل کے 15 اراکین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری اختلافات سامنے آئے۔ پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد اس بات پر گہری تشویش رکھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
پاکستانی سفیر احمد نے کہاکہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف غیر ضروری حملوں کے آغاز کی مذمت کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی اور ان خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا وعدہ کیا۔
سفیر نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات، جاری سفارتی کوششوں کے دوران، خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اس کے وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی توجہ صرف ایک دارالحکومت تک محدود نہیں بلکہ پورے خلیج کی سلامتی پر مرکوز ہے جہاں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں اور جو سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے لحاظ سے پاکستان کا اہم شراکت دار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








