کراچی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف شدید احتجاج کے دوران امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں کم از کم افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
احتجاجی مظاہرہ گزشتہ روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے فوراً بعد شروع ہوا۔ سینکڑوں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کیا اور اس میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں احتجاج کاروں نے پتھراؤ کیا اور قونصل خانے کی عمارت کے شیشے توڑنے کی کوششیں کیں۔
پولیس اور رینجرز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے، لاٹھی چارج کیا اور فائرنگ بھی کی جس سے مظاہرین پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔
ریسکیو سروسز (جیسے ایڈھی فاؤنڈیشن) کے مطابق، جھڑپوں میں کم از کم 8 لاشیں سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر پہنچائی گئی ہیں جبکہ 40 سے زائد زخمیوں کو بھی علاج کے لیے لایا گیا۔ زخمیوں میں سے بیشتر کو گولیاں، لاٹھیوں اور دھکم پیل کی وجہ سے چوٹیں آئیں۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے علاقے میں ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔ سلطان آباد سے مئی کولاچی کی طرف جانے والی سڑک بند کر دی گئی ہے جبکہ بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مئی کولاچی پھاٹک پر یوٹرن کروایا جا رہا ہے۔ اسی طرح پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے واپس موڑا جا رہا ہے تاکہ مزید بھیڑ نہ ہو۔
یہ واقعہ پاکستان میں ایران کے حامیوں کے غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں اور مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








