امریکی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر باہمی طور پر کیا جائے گا۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل کو ٹیلی فونک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حملے سے قبل ایران نےت اسرائیل کو تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور وہ پورا اسرائیل برباد کرنے والا تھا مگر واشنگٹن اور تل ابیب نے ملکر ایسے ملک کو تباہ کر دیا ہے جو اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔
ایران سے جنگ بندی کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تھوڑا سا باہمی معاملہ ہے۔ ہم بات چیت کر رہے ہیں۔ میں صحیح وقت پر فیصلہ کروں گا لیکن سب کچھ مدنظر رکھا جائے گا جس میں نیتن یاہو کی رائے بھی شامل ہوگی۔
ترمپ نے واضح کیا کہ امریکا کے بغیر اسرائیل خود فوجی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکتا ہے جبکہ اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس نے تجویز کیا ہے کہ جنگ 4 سے 6 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے لیکن ٹرمپ نے کسی سخت شیڈول کا عزم نہیں کیا۔ ان کے ریمارکس دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعاون کو اجاگر کرتے ہیں، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد ہے۔
یہ انٹرویو اس وقت ہوا جب تہران نے اعلان کیا کہ سابق لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم اتھارٹی منتخب کر لیا گیا ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ٹرمپ نے اس تقرری پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور صرف کہاکہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
امریکی صدر نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ پر تنقید کی کہ انہوں نے نیتن یاہو کو معافی نہیں دی جو فی الحال رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے مقدمے میں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کو فوری طور پر یہ معافی ملنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہرزوگ یہ نہ دے کر برا کام کر رہے ہیں۔
ان تبصروں کے جواب میں ہرزوگ کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے جو قانون کی حکمرانی سے چلتی ہے اور معافی کی درخواست جسٹس منسٹری کے ذریعے پروسیس کی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








