بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں تین کمسن بہنوں کے اچانک لاپتہ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ان کی لاشیں مقامی تالاب سے برآمد ہوئیں۔
پولیس کے مطابق کاماریڈی شہر کی آر بی نگر کالونی سے تعلق رکھنے والی تین بہنیں، شفاعت (8 سال)، آیات (7 سال) اور مریم (5 سال)، ہفتہ کی صبح اچانک لاپتہ ہو گئی تھیں۔ والد کی درخواست پر ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن شام ہوتے ہی شہر میں سنسنی پھیل گئی جب پہلے دو بچیوں، آیات اور مریم کی لاشیں تالاب سے برآمد ہوئیں۔ تیسری بچی شفاعت کی لاش رات تقریباً 12:30 بجے نکالی گئی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو والد پر شبہ ہوا اور سخت پوچھ گچھ کے بعد چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی۔ پولیس کے مطابق اسماعیل نے اعتراف کیا کہ اس نے ہی اپنی تینوں بیٹیوں کو تالاب میں پھینک دیا اور بعد میں خود ہی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دی تھی۔
پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ قرض کے شدید بوجھ سے پریشان تھا اور اسی وجہ سے اس نے یہ ہولناک قدم اٹھایا۔
یہ دلخراش واقعہ پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر گیا ہے اور مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








