اقوام عالم سو رہی ہے؟ امریکا و اسرائیل کی میناب کے بعد حافظ خمینی اسکول پر بمباری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ایران کے مرکزی شہر خمین میں واقع ڈاکٹر حافظ خمینی اسکول کو مبینہ امریکی میزائل حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق حملے کے نتیجے میں اسکول کی عمارت کے قریب واقع متعدد رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب جنوبی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے کے بعد عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے ادارے کی شناخت ڈاکٹر حافظ خمینی اسکول کے طور پر کی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث اسکول کے قریب واقع متعدد رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ڈاکٹر حافظ خمینی اسکول اسکول پر میزائل حملے سے قبل ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے میں کم از کم 200 کم عمر طالبات کی شہادت ہوئی تھی۔

الجزیرہ کے مطابق شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے یہ واقعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آ رہے ہیں۔ ادھر تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اس سے قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔

ترجمان نے امریکی صدر پر الزام عائد کیا کہ وہ عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے چالاکی اور دھوکے کا سہارا لے رہے ہیں۔ ترجمان کا دعویٰ تھا کہ امریکی فوجی اثاثے ایرانی حملوں کے خوف سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہٹ گئے ہیں۔

ایرانی بیان میں امریکی بحریہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر میزائل حملے کے بعد امریکی افواج نے فاصلہ بڑھا لیا۔ تہران نے یہ رپورٹس بھی مسترد کر دیں کہ اس کے میزائل ذخائر کمزور ہو رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ اس کے ہتھیار اب جنگ کے ابتدائی دنوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہیں۔

Related Posts