عید کارڈز جو خوشیوں کی داستان سناتے تھے! اور آج صرف یادیں باقی رہ گئیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ماضی میں عیدالفطر کی خوشیوں میں ہاتھ سے لکھے گئے عید کارڈز کا اپنا ایک خاص مقام ہوتا تھا لیکن موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی آمد نے اس روایت کو تقریباً ختم کر دیا۔ آج چند لمحوں میں پیغام یا سوشل میڈیا کے ذریعے مبارک باد بھیج دی جاتی ہے مگر وہ رنگ برنگے کارڈز اور ان میں چھپی محبت و خلوص کی خوشبو آج بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہے۔

کبھی رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے بازاروں میں عید کارڈز کے اسٹالز سج جاتے تھے۔ کئی تاجر صرف اسی سیزن کے لیے عارضی دکانیں کھولتے، گلی محلوں میں بھی منجیوں پر کارڈز سجا کر فروخت کیے جاتے۔ جیسے جیسے عید قریب آتی، اسٹالز پر رش بڑھتا اور لوگ اپنے عزیز و اقارب کے لیے خوبصورت کارڈز منتخب کرتے۔

اس دور میں محکمہ ڈاک بھی اہم کردار ادا کرتا تھا۔ لوگ لمبی قطاریں لگا کر کارڈز اپنے پیاروں کو بھیجتے تاکہ عید کی خوشیاں بروقت پہنچ سکیں۔ کارڈز پر اسلامی اور تاریخی مناظر کے ساتھ دلکش ڈیزائن اور فلمی ستاروں کی تصاویر بھی ہوتی تھیں، جبکہ سادہ مگر دل کو چھو لینے والے اشعار پیغام کو مزید خوبصورت بناتے تھے۔

وقت کے ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ نے اس روایت کو مٹایا مگر عید کارڈز کے وہ دن آج بھی ایک یادگار اور خوشگوار ماضی کی طرح دلوں میں محفوظ ہیں۔

Related Posts