ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کارروائی کی ویڈیو ریکارڈ جاری کر دی۔
ایرانی فوج کے مطابق صبح کے وقت امریکی ملکیت جہاز سیف سیا نامی جو کہ مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چل رہا تھا کو پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے دی گئی وارننگز اور انتباہات کو نظرانداز کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
#BREAKING
The moment that Iran’s IRGC Navy targeted the US Safe Sia ship in the northern Persian Gulf pic.twitter.com/YYfP3IvLse— Tehran Times (@TehranTimes79) March 12, 2026
حکام نے بتایا ہے کہ یہ جہاز امریکی فوج کے اثاثوں میں شامل ہے اور اسی وجہ سے اسے ہدف بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد خلیج فارس میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ خلیج کے علاقے میں تیل بردار جہازوں پر کم از کم دو حملوں میں سمندری ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں۔ بحری حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے جس سے اہم عالمی شپنگ روٹس کے لیے ایک نیا اور خطرناک خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر پائلٹ والے سطحی جہاز (Unmanned Surface Vessels) استعمال کیے گئے جنہیں یوکرین روس کے ساتھ جاری جنگ میں پہلے ہی مؤثر طریقے سے استعمال کر چکا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے خلیج فارس کے اہم ترین بحری راستے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دی ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچویں تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔
پہلا حملہ یکم مارچ کو اس وقت ہوا جب خام تیل بردار ٹینکر MKD VYOM کو عمان سے تقریباً 44 ناٹیکل میل دور نشانہ بنایا گیا جبکہ چند روز بعد عراق کی خور الزبیر بندرگاہ کے قریب لنگر انداز خام تیل بردار ٹینکر Sonangol Namibe پر بھی ایک چھوٹے جہاز کے ذریعے حملہ کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








