خوارج کی جانب سے کم سن لڑکوں کو بدفعلی کے بعد خودکش حملوں کیلئے استعمال کا شرمناک انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

دہشت گرد گروہ
علامتی فوٹو

شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے کے بعد دہشت گرد کمانڈروں اور ان کے زیرِ اثر خودکش بمباروں، جنہیں مقامی طور پر ‘تیز پری’ کہا جاتا ہے، کے حوالے سے مبینہ طور پر انتہائی شرمناک حقائق سامنے آئے ہیں۔

یہ نوجوان خودکش بمبار دراصل ان ‘پیڈوفائل’ (بچوں کے ساتھ بدفعلی میں ملوث) دہشت گرد کمانڈروں کے ہاتھوں ‘کھلونا’ بنے ہوئے ہیں جو انہیں ہر قسم کے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بعد ازاں ان لڑکوں کو مبینہ طور پر “تحفے” کے طور پر دیگر ساتھی کمانڈروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ویڈیو: بنوں کی “چھوکرا منڈی”، لاکھوں روپے میں خوبصورت لڑکے دستیاب، شرمناک کاروبار کی ہوشربا تفصیلات

 

رپورٹ کے مطابق کمانڈر کی موت کی صورت میں ان لڑکوں کو خودکش بمبار بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ ‘اگلی دنیا’ میں بھی اپنے کمانڈر کے کام آ سکیں، جبکہ گزشتہ روز حملہ کرنے والے لڑکے کے حلیے اور میک اپ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ان لڑکوں کو ‘پرکشش’ نظر آنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کرنے والے ان انتہا پسند گروہوں کے یہ کرتوت انسانیت اور مذہب کے نام پر دھبہ ہیں، جو صرف ریاستی اداروں کی مضبوطی کی وجہ سے لگام میں ہیں ورنہ یہ دہشت گرد اپنی اصل اوقات دکھانے میں دیر نہیں کریں گے۔

Related Posts