خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بالخصوص بنوں میں کم عمر خوبرو لڑکوں کی منڈیاں لگنے اور جنسی تعلقات کیلئے ان کی کھلم کھلا خرید و فروخت کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔
یہ انکشاف وزیرستان سے تعلق رکھنے والے معروف سوشل ایکٹوسٹ حیات پریغال نے کیا ہے اور انہوں نے کلچر کے نام پر اس شرمناک سماجی برائی کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔
سماجی کارکن حیات پریغال نے اس معاملے پر کھل کر آواز اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں خوبصورت لڑکوں کی باقاعدہ “منڈیاں” لگتی ہیں جہاں انہیں خریداروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور بعد ازاں بھاری رقوم کے عوض فروخت کیا جاتا ہے اور یہ شیطانی کام رمضان کے مقدس مہینے بھی جاری ہے۔
ان کے مطابق بنوں ٹاؤن شپ میں خوبصورت لڑکوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے، جانوروں کی طرح خریدار ان کو دیکھتے ہیں، پسند کرتے ہیں اور پھر خریدتے ہیں، ایک خوبصورت لڑکے کو اس کا گروپ لاکھوں میں بیچتا ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے کئی ویڈیوز اپنی فیس بک آئی ڈی پر شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ منڈی میں باقاعدہ میک اپ کیے ہوئے لڑکے خریدو فروخت کیلئے پیش کیے جا رہے ہیں۔
حیات پریغال کے مطابق بنوں کے علاقے ٹاؤن شپ میں ایسی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں مبینہ طور پر کم عمر لڑکوں کو خریداروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لڑکوں کو بعد میں مختلف مقامات یا بیرونِ ملک تک بھی لے جایا جاتا ہے۔ ان کے بقول یہ مسئلہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے بارے میں شکایات سامنے آرہی ہیں۔
سماجی کارکن کے مطابق ژوب، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور لکی مروت سمیت کئی دیگر علاقوں میں بھی ایسی منڈیاں لگائی جاتی ہیں جہاں کھلے عام “لونڈوں” اور “چھوکروں” کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








