ویڈیو: بنوں کی “چھوکرا منڈی”، لاکھوں روپے میں خوبصورت لڑکے دستیاب، شرمناک کاروبار کی ہوشربا تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

لڑکوں کی منڈی میں خوبرو لڑکے
لڑکوں کی منڈی میں خوبرو لڑکے، اسکرین گریب، فیس بک/ حیات پریغال

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بالخصوص بنوں میں کم عمر خوبرو لڑکوں کی منڈیاں لگنے اور جنسی تعلقات کیلئے ان کی کھلم کھلا خرید و فروخت کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف وزیرستان سے تعلق رکھنے والے معروف سوشل ایکٹوسٹ حیات پریغال نے کیا ہے اور انہوں نے کلچر کے نام پر اس شرمناک سماجی برائی کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔

سماجی کارکن حیات پریغال نے اس معاملے پر کھل کر آواز اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بہت سے علاقوں میں خوبصورت لڑکوں کی باقاعدہ “منڈیاں” لگتی ہیں جہاں انہیں خریداروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور بعد ازاں بھاری رقوم کے عوض فروخت کیا جاتا ہے اور یہ شیطانی کام رمضان کے مقدس مہینے بھی جاری ہے۔

ان کے مطابق بنوں ٹاؤن شپ میں خوبصورت لڑکوں کی باقاعدہ منڈی لگتی ہے، جانوروں کی طرح خریدار ان کو دیکھتے ہیں، پسند کرتے ہیں اور پھر خریدتے ہیں، ایک خوبصورت لڑکے کو اس کا گروپ لاکھوں میں بیچتا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کئی ویڈیوز اپنی فیس بک آئی ڈی پر شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ منڈی میں باقاعدہ میک اپ کیے ہوئے لڑکے خریدو فروخت کیلئے پیش کیے جا رہے ہیں۔

حیات پریغال کے مطابق بنوں کے علاقے ٹاؤن شپ میں ایسی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں مبینہ طور پر کم عمر لڑکوں کو خریداروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لڑکوں کو بعد میں مختلف مقامات یا بیرونِ ملک تک بھی لے جایا جاتا ہے۔ ان کے بقول یہ مسئلہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کے بارے میں شکایات سامنے آرہی ہیں۔

سماجی کارکن کے مطابق ژوب، صوابی، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور لکی مروت سمیت کئی دیگر علاقوں میں بھی ایسی منڈیاں لگائی جاتی ہیں جہاں کھلے عام “لونڈوں” اور “چھوکروں” کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔

حیات پریغال کے مطابق ژوب کوئٹہ سے لیکر صوابی تک لوگ انہیں لونڈے بازی کی اس لعنت کی ویڈیوز بھیج رہے ہیں۔ ان کے مطابق صوابی میں نہر پر “چھوکروں” کی منڈی لگتی ہے، ژوب کے سیلیازہ میں منڈی لگتی ہے۔ ڈی آئی خان کے بھکر روڈ پمپ پر منڈی لگتی ہے۔ ضلع خیبر میں چھوکرا پل مشھور ہے، وہاں باقاعدہ گروپ آکر خریداری کرتے ہیں، کرک میں تین مقامات پر منڈیاں لگتی ہیں، لکی مروت میں یہ باقاعدہ رواج بن چکا ہے۔
ان کے مطابق صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کئی علاقوں میں عورتوں نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ یا تو ہمارے شوہروں کو ہمیں طلاق دلوانے پر راضی کرلو یا پھر ان کو مجبور کریں کہ وہ اپنے پالے ہوئے چھوکروں کو چھوڑ دیں۔ ہم کس کے ساتھ زندگیاں گزاریں۔ نہ بچوں کو پالنے کے لئے باہر نکل سکتی ہیں نہ شوہر خرچہ دیتے ہیں۔ سارا خرچہ پالتو چھوکروں پر کرتے ہیں۔
حیات پریغال نے اس رجحان کو ایک سنگین سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے معاشرے کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے معاشرے کے باشعور طبقے، علما، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ اس برائی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

Related Posts