سندھ پولیس کے ایک معطل افسر کو بین الاقوامی دھوکہ دہی کے بڑے نیٹ ورک کا سرغنہ قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
یہ انکشاف ڈی ایچ اے فیز 2 ایکسٹینشن میں ایک بڑے کال سینٹر پر چھاپے کے بعد سامنے آیا جہاں تفتیش کاروں نے ایک جدید دھوکہ دہی فیکٹری دریافت کی۔ اس موقع پر چار افراد محمد شاہ، عذیر شہزاد، روہت کمار اور یوگیش کو گرفتار کیا گیا تاہم تحقیقات کا اصل رخ سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ابوبکر صدیقی کی جانب موڑ دیا گیا جو اس آپریشن کا اصل ماسٹر مائنڈ تھا۔
جرائم کی تفصیلات
ابوبکر صدیقی نے 2020 میں پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن پہلے سے جرائم میں ملوث تھا۔ اس نے اپنی ٹیم کو ہدایات دی کہ وہ امریکی اور کینیڈین شہریوں کو بینک کے نمائندوں کا بہانہ بنا کر دھوکہ دیں۔
گروپ جدید ڈیجیٹل آلات اور غیر قانونی اسپوفنگ سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین سے کریڈٹ کارڈ کے خفیہ کوڈز حاصل کرتا تھا۔ حاصل شدہ معلومات کو فوری طور پر مرچنٹ اکاؤنٹس میں منتقل کیا جاتا اور بائنانس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی تاکہ ٹریس ختم ہو جائے۔
پہلا مقدمہ اور جاری تحقیقات
ایم ایم نیوز کے مطابق یہ ابوبکر صدیقی کا پہلا کیس نہیں بلکہ 2024 میں بھی اسے اسی نوعیت کے جرائم میں گرفتار کیا جا چکا ہے مگر وہ خفیہ طور پر اپنا غیر قانونی کاروبار جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے بعد ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے آئی جی سندھ کو خط لکھ کر سخت کارروائی کی سفارش کی۔
ضبط شدہ آلات اور ڈیٹا
حکام نے 14 لیپ ٹاپس، 10 موبائل فونز اور ہزاروں غیر ملکی شہریوں کی نجی بینکنگ معلومات پر مشتمل ڈیٹا بیس ضبط کر لیا ہے۔ ضبط شدہ آلات کی ٹیکنیکل جانچ جاری ہے اور پولیس اس نیٹ ورک کی گہرائی میں مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ معطل افسر کا اثر و رسوخ کس حد تک پھیلا ہوا تھا۔
ابوبکر صدیقی کو کراچی کے سب سے بڑے سفید پوش جرائم کی تحقیقات کے مرکز میں زیر حراست رکھا گیا ہے اور اسے پولیس افسر سے جرم کا بادشاہ کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








