ایران کی طاقتور سیاسی اور سیکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا جس نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 67 سالہ علی لاریجانی جو ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور ملک میں جنگی حکمت عملی کے اہم کردار کے طور پر جانے جاتے تھے اور غلام رضا سلیمانی، جو بسیج ملیشیا کے قیادت میں تھے ایک خفیہ اپارٹمنٹ پر اسرائیل کے حملے میں مارے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب علی لاریجانی اپنے بیٹے کے ساتھ چھپے ہوئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شہادت کے فوری ردعمل میں کہا کہ ایران کا نظام مضبوط ہے اور اہم شخصیات کے جانے سے یہ کمزور نہیں ہوگا۔ ہر فرد اپنے کردار کے مطابق ملک کی خدمت کرتا ہے امریکی اور اسرائیلی یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اس سے ایران کمزور نہیں ہوگا۔
ایرانی کمانڈرانچیف نے علی لاریجانی کی شہادت پر فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ پاسداران انقلاب نے غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کو بزدلانہ قتل قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں بسیج فورس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاسداران انقلاب نے غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کو “بزدلانہ قتل” قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں بسیج فورس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی تصدیق کی کہ تہران میں اسرائیلی فوج نے متعدد مقامات پر ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا اور ہدایت دی کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے۔
الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سابق اسپیکر علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی نمازِ جنازہ آج ادا کی جائے گی۔بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی گزشتہ دنوں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی تصدیق کی کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے اور فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کی قیادت کے تعاقب کو جاری رکھا جائے۔ یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یوم القدس کی ریلی میں دیکھا گیا تھا۔
یہ واقعہ خطے میں سیاسی کشیدگی میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات عالمی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت سے ایران میں سیاسی اور عسکری توازن متاثر ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑنے کے امکانات ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اور وزیرِ اعظم نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی قیادت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یومِ القدس کی ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








