پاکستان میں طاقتور موسمی سسٹم ایران سے داخل ہو چکا ہے جس کے سبب آج اور کل جنوبی اور مغربی علاقوں میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ تیز بارش متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمی اسپیل کے ساتھ ممکنہ ہوائی آلودگی کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ایران میں گزشتہ ہفتے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ہونے والی بارش میں تیل کے مکس پانی (کالی بارش) ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگرچہ محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں مگر ایران کی تیل تنصیبات پر بمباری کے بعد پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور مضر ذرات شہریوں کیلئے خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور ہوا کی آلودگی کے شدید اثرات کا شکار ہے۔ ہر سال بھارت سے آنے والی دھند اور آلودہ ہوا شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ بنتی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کا مغربی بارڈر جغرافیائی طور پر حساس ہے جہاں جاری جنگ اور میزائل دھماکے فضائی آلودگی کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین نے شہریوں سے تاکید کی ہے کہ بارش کے دوران احتیاطی اقدامات کریں اور فضائی آلودگی کے ممکنہ اثرات سے بچاؤ کے لیے ماسک اور دیگر حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بارش کے پانی اور ہوا کے معیار پر مسلسل نظر رکھی جائے کیونکہ یہ موسمی سسٹم نہ صرف بارش بلکہ فضائی آلودگی کے اثرات بھی لا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق متعلقہ ادارے ایران کی سمت سے آنے والے بارش کے پانی کے نمونے جمع کریں گے اور لیبارٹری میں تجزیہ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ پانی کسی کیمیائی یا مضر صحت آلودگی سے متاثر ہے یا نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








