کاشف مجید کے 2 یوٹیوب چینل ڈی مونیٹائز، یوٹیوب کی نئی پالیسیاں کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کاشف مجید
(فوٹو: آن لائن)

معروف یوٹیوبر کاشف مجید کے کم از کم 2 یوٹیوب چینلز کو ڈی مونیٹائز کردیا گیا، جس کی تصدیق کاشف مجید نے اپنی حالیہ ویڈیو میں کرتے ہوئے یوٹیوب کی نئی پالیسیز پر نہ صرف روشنی ڈالی بلکہ دوسرے یوٹیوبرز کو ان پالیسیز کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی تلقین کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یوٹیوبر کاشف مجید نے اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں بتایا کہ ان کے چینلز ڈی مونٹائز ہونے کی بنیادی وجہ یوٹیوب کی نئی پالیسیز ہیں، جن میں خاص طور پر “آتھنٹک کنٹینٹ”، “ریلیٹڈ چینل کی معطلی” اور “مِس لیڈنگ کنٹینٹ” شامل ہیں۔ ان کے مطابق، یوٹیوب اس وقت صرف اپنی مالی مفادات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور تخلیق کاروں کے مفادات کو نظر انداز کر رہا ہے۔

کاشف مجید نے بتایا کہ ان کے مین چینل کے ڈی مونٹائز ہونے کے بعد، یوٹیوب نے ان کے دوسرے چینل “کے ایم کرپٹو” کو بھی سسپینڈ کر دیا، کیونکہ دونوں چینلز ایک ہی شخص کے زیر انتظام تھے۔ یوٹیوبر نے اس مسئلے کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال سے منسلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوٹیوب نے اے آئی سسٹمز کو اس طرح استعمال کیا ہے کہ وہ خودکار طریقے سے ویڈیوز پر فیصلہ کر لیتے ہیں، جس سے تخلیق کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کاشف مجید نے تجویز دی کہ یوٹیوب کو ایک ایسا شفاف نظام متعارف کرانا چاہیے جو ویڈیو اپ لوڈ کے وقت تخلیق کار کو واضح طور پر بتائے کہ کونسی ویڈیوز پالیسیز کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ اس سے تخلیق کار پہلے سے ہی اس بات کو سمجھ سکیں کہ کونسی ویڈیوز اپ لوڈ کرنی ہیں اور کونسی نہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یوٹیوب اس وقت تخلیق کاروں کو واضح اطلاع نہیں دیتا بلکہ بعد میں چینلز ڈی مونٹائز یا سسپینڈ کر دیتا ہے، جس سے یوٹیوبرز کی سالوں کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

یوٹیوبر نے اپنے ناظرین اور اپنی ہی طرح کے دیگر یوٹیوبرز  سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں آواز بلند کریں اور یوٹیوب کو سوشل میڈیا پر ٹیگ کر کے نئی پالیسیز کی اصلاح کا مطالبہ کریں۔ ان کے مطابق تخلیق کاروں اور ناظرین کے درمیان توازن قائم ہونا چاہیے تاکہ دونوں فریق یوٹیوب کے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھا سکیں۔

کاشف مجید نے زور دیا کہ یوٹیوب کی موجودہ پالیسی، خاص طور پر “سرکموینشن پالیسی”، نہ صرف نامناسب ہے بلکہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے یوٹیوبرز، جو کئی سالوں سے محنت کر رہے ہیں، بغیر کسی واضح وجہ کے اپنے تمام چینلز کھو سکتے ہیں، جو کسی بھی ادارے یا پلیٹ فارم کے لیے مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یوٹیوب یہ نظام بہتر بنائے اور تخلیق کاروں کی محنت کا احترام کرے تو پورا پلیٹ فارم زیادہ فعال اور فائدہ مند بن سکتا ہے۔

Related Posts