مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کورونا جیسی معاشی تباہی لائے گی! پوتن نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے کا موازنہ کورونا کی وبا سے کیا جس نے عالمی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا تھا۔

ماسکو میں روسی صنعتی اور کاروباری یونین کے اجلاس کے اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے پوتین نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ بین الاقوامی پیداوار اور لاجسٹک چینز کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیڈروکاربنز، دھاتوں کی استخراج اور پروسیسنگ، کھاد کی پیداوار، اور دیگر کئی اشیاء سے متعلق پوری صنعتیں اس حملے کی زد میں آ گئی ہیں۔”

پوتین نے مزید کہا کہ اب کچھ تخمینے کیے جا رہے ہیں جو ان کا موازنہ کورونا وبا سے کرتے ہیں۔ جیسا کہ مجھے یاد ہے کورونا وبا نے تمام خطوں اور براعظموں کی ترقی کو نمایاں طور پر سست کر دیا تھا۔

صدر پوتین نے روسی حکومت اور تیل و گیس کی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ضائع کرنے کی کوشش نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ہماری روایتی برآمدات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور مارکیٹیں غیر مستحکم ہیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے، غیر متوقع منافع حاصل کرنے یا جیسا کہتے ہیں انہیں ضائع کرنے، ڈویڈنڈز پر استعمال کرنے یا ریاست کی صورت میں بجٹ اخراجات میں بڑھوتری کرنے کا لالچ پیدا ہو سکتا ہے۔

پوتین نے خبردار کیا کہ تیل کی مارکیٹیں اس کے برعکس بھی جا سکتی ہیں اور اخراجات میں اعتدال پسند تحفظ پسندی اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

روس کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک، مشکلات اور پابندیوں کے باوجود میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کو موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط اور متحد ہونا ضروری ہے کیونکہ دنیا کی موجودہ صورتحال نے خودمختاری کو ترک کرنے کے نتائج دکھا دیے ہیں۔

Related Posts