ایک طرف بچت کی اپیل دوسری جانب شاہانہ پروٹوکول! یہ کھلا تضاد نہیں ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات اب پاکستان کی معیشت اور عام شہری کی زندگی پر براہِ راست محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو چکی ہیں جس کا بوجھ براہِ راست عوام کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور روزمرہ اخراجات سے پریشان شہریوں کے لیے یہ اضافہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں۔

حکومت کی جانب سے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیول بچانے، کاروباری اوقات محدود کرنے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جلدی مارکیٹیں بند کریں اور ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ بظاہر یہ اقدامات قومی مفاد میں ضروری دکھائی دیتے ہیں مگر دوسری طرف ایک اہم سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا یہ قربانیاں صرف عوام کے لیے مخصوص ہیں؟

کراچی میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حالیہ آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے نام پر درجنوں گاڑیوں پر مشتمل طویل پروٹوکول نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ کئی سڑکیں بند ہوئیں، ٹریفک جام رہا اور عام لوگوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے مناظر میں جب ایک طرف عوام کو فیول بچانے کی تلقین کی جا رہی ہو اور دوسری جانب سرکاری سطح پر ایندھن کا کھلے عام استعمال دکھائی دے تو تضاد واضح محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح صدر مملکت آصف علی زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے پروٹوکول بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ملک واقعی ایک سنگین توانائی بحران سے گزر رہا ہے تو کیا اس کا اطلاق حکمران طبقے پر بھی ہونا چاہیے یا نہیں؟

معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قومی بحران میں کامیابی کے لیے برابر کی قربانی کا تصور انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر عوام کو سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے اور حکومتی سطح پر سادگی یا بچت نظر نہ آئے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں کی ساکھ بھی کمزور پڑتی ہے۔

عام شہری جو پہلے ہی محدود آمدنی میں گزارا کرنے پر مجبور ہے اب یہ محسوس کر رہا ہے کہ اس سے بار بار قربانی مانگی جا رہی ہے جبکہ حکمران طبقے کے طرزِ زندگی میں کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی احساس محرومی آہستہ آہستہ عوامی بے چینی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سیکیورٹی تقاضے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان اقدامات کو موجودہ معاشی حالات کے مطابق زیادہ مؤثر اور کم خرچ نہیں بنایا جا سکتا؟ دنیا کے کئی ممالک میں سادگی اپنانا اور حکومتی اخراجات کم کرنا ایک مثبت مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو عوام میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔

پاکستان میں بھی اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہی محسوس ہوتی ہے کہ حکومتی قیادت خود عملی طور پر بچت اور سادگی کا مظاہرہ کرے۔ اگر عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کے حکمران بھی انہی حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ بھی قربانی دے رہے ہیں، تو مشکل فیصلوں کو قبول کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

آخر میں یہی سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا اس بار بھی بوجھ صرف عام آدمی ہی اٹھائے گا یا حکمران طبقہ بھی اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا؟

یہی وہ سوال ہے جو آج ہر گلی، ہر بازار اور ہر گھر میں زیرِ بحث ہےاور جس کا جواب آنے والے دنوں میں حکومتی اقدامات سے ہی سامنے آئے گا۔

Related Posts