کراچی سمیت سندھ بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات آئندہ ماہ اپریل 2026 سے شروع ہوں گے جبکہ سندھ حکومت نے نقل کی روک تھام کیلئے جدید سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت سندھ بھر میں امتحانات کی تیاریوں سے متعلق اجلاس میں نقل کی روک تھام کیلئے جدید واٹر مارکنگ سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت پیپر آؤٹ کرنے والوں کا فوری سراغ لگایا جاسکے گا۔
صوبائی حکومت نے امتحانی مراکز، بورڈ ویجیلنس ٹیموں کی سخت نگرانی کیلئے صوبائی سطح پر شکایتی سیل قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس دوران امتحانی مراکز کی حفاظت، فرنیچر، پینے کا پانی، نقل کی روک تھام اور دیگر بنیادی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز اسماعیل راہو نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر سندھ بھر میں امتحانات مقررہ تاریخوں پر ہی ہوں گے۔ سندھ بھر میں 7اپریل سے نویں تا 12ویں جماعت کے امتحانات ہوں گے جن میں 13لاکھ 53 ہزار 258 طلبہ و طالبات حصہ لیں گے۔
وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز نے کہا کہ سندھ بھر میں 1600 سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ کراچی میں 11ویں اور 12ویں جماعت کے امتحانات کا آغاز 25اپریل سے جبکہ نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات کا آغاز 7اپریل سے ہوگا، تاہم سکھر میں نویں اور دسویں کے امتحانات 30مارچ سے شروع ہوجائیں گے۔
صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا کہ سکھر میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کا آغاز 15اپریل سے ہوگا۔ امتحانی مراکز، ویجیلنس ٹیموں کی نگرانی کیلئے سیکریٹری بورڈز دفتر میں شکایتی سیل قائم ہوگا۔ اگر کہیں بھی پیپر لیک ہوا تو بورڈ چیئرمینز کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
اسماعیل راہو نے کہا کہ امتحانی مراکز میں موبائل فون لانے پر پابندی ہوگی اور دفعہ 144کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ سکھر اور شہید بے نظیر آباد ڈویژن میں تمام امتحانات ای مارکنگ کے ذریعے لیں گے۔ کراچی میں نویں اور دسویں کے 2 پیپرز ای مارکنگ کے ذریعے لیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








