پاکستانی حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندوں کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے اور ریزیلنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ مکمل ہوگیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور RSF کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہوگی جس کے نتیجے میں دونوں پروگراموں کے تحت کل مالی اعانت تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اسٹاف لیول معاہدہ اب صرف آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری پر منحصر ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ EFF پروگرام کے تحت نافذ کی گئی پالیسیاں معیشت کو مضبوط بنانے اور مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ مالی سال 2025 کے بعد معیشت میں بحالی کے آثار واضح ہوئے اور موجودہ مالی سال کے آغاز میں اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن کو برقرار رکھا گیا جبکہ بیرونی مالیاتی ذخائر میں بھی بہتری رہی تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات میں سختی کی وجہ سے مہنگائی، معاشی نمو اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف کے نمائندے 26 فروری کو پاکستان پہنچے اور 2 مارچ سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث 3 مارچ کو وفد اسلام آباد سے روانہ ہو گیا اور وزیر خزانہ کے ساتھ استنبول میں رابطوں کے ذریعے بات چیت جاری رہی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








