وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے 4 ملکی اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ایران جنگ کسی ملک کے مفاد میں نہیں، قیام امن وقت کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز 4ملکی اجلاس کے بعد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خطے میں امن کیلئے بڑا سفارتی اقدام اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں 4 ملکی مشاورتی اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران جنگ اور اس کے تباہ کن اثرات و مضمات تفصیلی طور پر زیر غور آئے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، جس سے صرف انسانی جانوں کا ضیاع اور تباہی ہو رہی ہے۔
چار ملکی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں مسلم امت کا اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جبکہ تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ شرکائے اجلاس نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کو بھی اہمیت دی۔
نائب وزیر اعظم پاکستان و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کیلئے بھی اسلام آباد میں میزبانی کی پیشکش کی، جس کی شریک ممالک نے مکمل طور پر حمایت کی۔ ایران اور امریکا کی جانب سے بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چین اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے، جبکہ دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کی تعریف کی۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کیلئے تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








